سیاست
3 منٹ پڑھنے
نتن یاہو کو کسی بھی میدان میں جیتنے کا فن نہیں آتا: سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ
موجودہ حکومت کی سیاسی قیادت فوج کی متعدد محاذوں پر فتح حاصل کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ ڈال رہی ہے
نتن یاہو کو کسی بھی میدان میں جیتنے کا فن نہیں آتا: سابق اسرائیلی وزیر اعظم بینیٹ
الٹرا آرتھوڈوکس یہودیوں کو فوج میں بھرتی کرنے سے فوجی خلا کو پُر کرنے میں مدد مل سکتی ہے، لیکن "حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر اس اقدام سے گریز کر رہی ہے،" بینیٹ نے کہا۔ / AP
27 مارچ 2026

اسرائیلی میڈیا کے مطابق سابق اسرائیلی وزیر اعظم نفتالی بینیٹ نے  غزہ، لبنان اور ایران کے خلاف جنگوں کے حوالے سے حکومت کے اندازِ کار  کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہ وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو  کو"کسی بھی محاذ پر جیتنے کا فن نہیں آتا" ۔

بینیٹ نے جمعرات کو چینل 12 سے ایک انٹرویو میں کہا،"موجودہ حکومت کی سیاسی قیادت فوج کی متعدد محاذوں پر فتح حاصل کرنے کی صلاحیت میں رکاوٹ ڈال رہی ہے،  اُنہوں نے رہنماؤں پر الزام لگایا کہ وہ سلامتی کی ضروریات کے مقابلے میں سیاسی مصلحتوں کو فوقیت دے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوج کو تقریباً 20,000 فوجیوں کی کمی کا سامنا ہے، اور مؤقف اپنایا کہ کٹرآرتھوڈوکس یہودیوں کی بھرتی اس خلا کو پر کرنے میں مدد دے سکتی ہے، مگر "حکومت سیاسی وجوہات کی بنا پر اس اقدام سے گریز کر رہی ہے۔"

بینیٹ نے مزید کہا، "اسرائیل میں موجودہ قیادت کسی بھی محاذ پر جیتنے کا فن  نہیں جانتی۔"

فوج پر داخلی  دباؤ ہے

علیحدہ رپورٹ میں روزنامہ ہراٹز نے جمعرات کو اسرائیلی فوجی ترجمان ایفی ڈیفرِن کے حوالے سے بتایا کہ توسیع شدہ حملوں اورکٹر-آرتھوڈوکس بھرتی کو لازمی قرار دینے والی قانون سازی کے نہ ہونے کی وجہ سے فوج کو تقریباً 15,000 سپاہیوں کی کمی کا سامنا ہے۔

ڈیفرِن نے کہا کہ فوج کو لبنان، غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور شام میں فوجی دستوں کو تقویت دینے کی ضرورت ہے، فوج کے سربراہ کو فوج کی تیاری کی اپنی حکمت ِ عملی پیش کرنی چاہیے۔

یدیوت احرونوت اخبار نے بھی جمعرات کو رپورٹ کیا کہ زامیر نے خبردار کیا ہے کہ بڑھتے ہوئے آپریشنل بوجھ اور بھرتی اور فوجی خدمت کو منظم کرنے والی قانون سازی کے فقدان کے باعث فوج اندرونی دباؤ کی طرف جا رہی ہے۔

مقترحہ قانون کا مقصد جنگ کے دوران افرادی قوت کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کٹر-آرتھوڈوکس کمیونٹیز پر بتدریج بھرتی کوٹے مسلط کرنا ہے، اور مزکورہ افراد کی جانب سے انکار کی صورت میں مالی اور فوجداری سزائیں تجویز کی گئی ہیں — تا ہم اس اقدام مذہبی جماعتیں سختی سے مذمت  کر رہی ہیں۔

وسیع کشیدگی کے خدشات

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کے بعد سے ایران پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی کے پھیلنے اور زمینی مداخلت کے امکان کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔

اسرائیل نے 2 مارچ کو لبنان میں اپنی فوجی مہم کو بڑھاتے ہوئے بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوب و مشرق کے علاقوں پر ہوائی حملے کیے، اور اگلے روز ایک محدود زمینی کاروائی شروع کی۔

غزہ میں، اسرائیلی افواج 10 اکتوبر 2025 سے نافذ جنگ بندی کی روزانہ خلاف ورزیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق 689 فلسطینی ہلاک اور 1,860 زخمی ہوئے ہیں۔

 غزہ کے شہری بنیادی ڈھانچے کا تقریباً 90 فیصد تباہ ہو چکا ہے اور اقوامِ متحدہ نے ازسرِ نو تعمیر کے اخراجات کا تخمینہ تقریباً 70 بلین ڈالر  کے طور پر  لگایا ہے۔

دریافت کیجیے
مشرق وسطی میں ایرانی ڈرونز گرانے میں مدد کی ہے:زیلنسکی
اسرائیل انسانیت کے لیے ایک "کینسر ہے": خواجہ آصف
ایرانی سینیئر سفارتکار  امریکہ۔اسرائیل دہشت گرد حملے میں ہلاک
بیلجیئم: جنگ بندی میں لبنان کو بھی شامل کیا جائے
ٹرمپ: امریکی فوجیں علاقے میں موجود رہیں گی
پاکستان: ہم، لبنان میں اسرائیلی 'جارحیت' کی سخت مذّمت کرتے ہیں
شمالی کوریا نے کلسٹر مونیشن وارہیڈ بیلسٹک میزائل کاتجربہ کر ڈالا
لبنان پر حملوں کا جواب،حزب اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ برسا دیئے
امریکہ-ایران جنگ بندی کا اعلان،اسرائیل کی حمایت
لبنان پر اسرائیلی حملے، 4 افراد ہلاک
فائر بندی کی حمایت نیتن یاہو کی 'سیاسی ناکامی' ہے: لاپڈ
تیل کی قیمتوں میں تیزی سے کمی، عالمی اسٹاک میں زبردست اضافہ
ایران: امریکہ نے 10 نکاتی امن تجویز کو 'اصولی طور پر' قبول کر لیا ہے
پاکستان: امریکہ اور ایران فوری جنگ بندی پر متفق ہو گئے ہیں
امریکہ آبنائے ہرمز میں ٹریفک کی بھیڑ کو سنبھالنے میں مدد کرے گا: ٹرمپ