مشرق وسطی
2 منٹ پڑھنے
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
قالیباف نے کہا کہ دھمکیاں،  وعدہ خلافیاں اور جعلی خبریں ایک "ناکام حکمتِ عملی" کی عکاس  ہیں۔
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف بیروت، لبنان میں، 12 اکتوبر 2024 [فائل] / Reuters

ایرانی پارلیمانی اسپیکر اور امریکہ کے ساتھ مذاکراتی  عمل میں چیف مذاکرات کار نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس طرزِ عمل کہ وہ حملوں کا اعلان کرتے ہیں اور بعد میں انہیں منسوخ کر دیتے ہیں ، کو امریکی "تھیٹر ڈپلومسی آن لوپ" قرار دیتے ہوئے تنقید کی۔

محمد باقر قالیباف نے X پر  اپنی پوسٹ میں  مندرجہ ذیل بیانات کو جگہ دی ہے:"ایک بہت بڑا حملہ آ رہا ہے۔۔رُکو  ذرا؛   چھوڑو چھوڑو، وہ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں،  یہ بار بار دہرایا جانے والا تھیٹر طرزِ سفارت کاری ہے۔

قالیباف نے کہا کہ دھمکیاں،  وعدہ خلافیاں اور جعلی خبریں ایک "ناکام حکمتِ عملی" کی عکاس  ہیں۔

انہوں نے مزید کہا"حقائق قبول کریں اور اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔ ہمیں مزید تھیٹر کے کھیل نہیں   دیکھنا چاہتے۔"

ٹرمپ نے جمعرات کو کہا تھا  کہ وہ آبنائے  ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے مذاکرات میں 'شامل '  ہو گئے ہیں اور اشارہ دیا کہ کوئی  معاہدہ 'جلد' طے پا سکتا ہے۔

اختلافات

حالیہ ہفتوں میں امریکہ اور ایران نے فوجی حملوں کا تبادلہ کیا ہے، جس میں واشنگٹن نے اُن مقامات کو نشانہ بنایا جو وہ ایرانی  پاسدارانِ انقلاب  کے  فوجی اڈے قرار دیتا ہے، اور تہران نے اس کے  جواب میں چند خلیجی ممالک، خاص طور پر اردن، بحرین اور کویت میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا ۔

یہ کشیدگی اس کے باوجود بڑھی کہ جون میں امریکہ اور ایران کے درمیان ایک مفاہمت نامے پر دستخط ہوئے تھے اور حتمی معاہدے کی طرف مذاکرات کا آغاز کیا گیا تھا۔

مذاکرات بعد ازاں سیکیورٹی ضمانتوں اور آبنائے  ہرمز کے ذریعے نیویگیشن کی آزادی کے بارے میں اختلافات کے باعث رک گئے، جو توانائی کی فراہمی اور عالمی تجارت کے لیے دنیا کی اہم گزر گاہوں میں  سے ایک ہے۔

گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے ایران کو 'بہت سخت' نقصان پہنچانے کی دھمکی دی، یہ کہتے ہوئے کہ وہ توانائی کے مراکز، پل اور بجلی کے پلانٹس نشانہ بنا سکتے ہیں۔ بعد ازاں انہوں نے کہا کہ انہوں نے حملے روکے کیونکہ ایران نے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر متفق ہونے کا اشارہ دیا۔

کئی امریکی میڈیا اداروں کے مطابق، انٹرسیپٹر میزائل/دفاعی اسٹاک میں کمی نے بھی ایران پر اضافی حملے روکنے کے فیصلے میں کردار ادا کیا ہے۔

دریافت کیجیے
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی
مصر: سینا میں بس حادثے میں 16 افراد ہلاک
نیپال۔چین سیلاب کی آفت میں ہلاکتوں کی تعداد 1,130 تک پہنچ گئی، تقریباً 4,500 افراد لاپتہ
ترکیہ: دو تجارتی بحری جہازوں کی آپس میں ٹکر، 10افراد لاپتہ
شام: شیبانی۔راسموسین ملاقات
یمن: داعش کے ایک سرغنہ کو ہلاک کر دیا گیا ہے
صدر ایران پیزشکیان: "اگر امریکہ اپنے وعدوں پر عمل کرے تو ایران بھی فوری طور پر اقدام کرے گا"
پاکستان میں شدید بارشوں کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی میں اسکولوں میں تعلیمی سرگرمیاں معطل
امریکی پابندیوں کے خلاف یورپ کی خاموشی مایوس کن ہے:ایران
حماس: اسرائیل کی بڑھتی ہوئی جارحیت مختلف شکلوں میں جاری رکھی گئی جنگ ہے
امریکہ: اٹارنی نے 17 سالہ لڑکی کو قتل کا قصوروار قرار دے دیا
امریکہ نےعراق کے لیے800 ملین ڈالر کےدفاعی پیکیج کی منظوری دے دی