اسرائیل کے بروز ہفتہ رفح گذرگاہ کو بند کرنے کے بعد غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا ہے۔
رفح سرحدی چوکی بند ہونے سے ان خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ اس محصور علاقے میں پھنسے عام لوگوں کو دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے بے رحمانہ اسرائیلی حملوں کے بعد اور بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔
اسرائیلی فوج کے سِول رابطہ شعبے COGAT نے کہا ہےکہ یہ قدم ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد "اٹھایا گیا ضروری حفاظتی قدم" ہے اور علاقائی تناؤ میں کمی کے لئے جاری سفارتی کوششوں کے باوجود بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔
سِول رابطہ شعبے نے غزہ میں انسانی امدادی عملے کے دَوری داخلے کو بھی مؤخر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے ، پہلے ہی اپنے امدادی کاموں کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ، امدادی تنظیموں کو مزید پریشان کر دیا ہے۔
شدید امداد کے محتاج فلسطینی
فلسطینیوں کے حوالے سے اس صورتحال نے پہلے ہی سے سنگین صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ غزہ کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، خوراک اور طبی سہولیات تک رسائی سخت محدود ہے اور تقریباً تقریباً ساری آبادی بے گھر ہو چُکی ہے۔
اسرائیل کی بے رحمانہ نسل کشی جنگ کے دوران کئی ماہ تک بند رہنے کے بعد مصر کے ساتھ سرحدی چوکی کو چند ہی دن پہلے محدود شہری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا ۔
بین الاقوامی سطح پر غزہ میں اسرائیلی رویے کی سخت تحقیق میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عدالتی ادارے 'بین الاقوامی عدالتِ انصاف' نے کہا ہے کہ اسرائیلی کاروائیوں کو نسل کُشی تشکیل دے سکنے کی اہل قرار دینے سے متعلق دعوے معقول ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض حربے انسانیت سوز جرائم یا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔
تاہم رفح چوکی کے بند ہونے کا غزہ کے شہریوں پر فوری اثر واضح ہے یعنی وہ دوبارہ دنیا سے کَٹ گئے ہیں،مداد تک رسائی کم ہوتی جا رہی ہے اور علاقائی کشیدگی کے پھیلنے کا خطرہ غیر یقینی صورتحال میں اضافہ کر رہا ہے۔













