دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
اسرائیل کے رفح سرحدی چوکی کو بند کرنے کے بعد غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
مصر کے ساتھ رفح کی سرحد مہینوں بند رہنے کے بعد حال ہی میں محدود شہری نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھولی گئی تھی۔ / Reuters
1 مارچ 2026

اسرائیل کے بروز ہفتہ رفح گذرگاہ کو بند کرنے کے بعد غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا ہے۔

رفح سرحدی چوکی بند ہونے سے ان خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ اس محصور علاقے میں پھنسے عام لوگوں کو دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے بے رحمانہ اسرائیلی حملوں کے بعد اور بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے سِول  رابطہ شعبے COGAT نے کہا  ہےکہ یہ قدم ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد  "اٹھایا گیا ضروری حفاظتی قدم" ہے اور علاقائی تناؤ میں کمی کے لئے  جاری سفارتی کوششوں کے باوجود بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

سِول  رابطہ شعبے نے غزہ میں انسانی امدادی عملے کے دَوری داخلے کو بھی  مؤخر  کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے ، پہلے ہی اپنے امدادی کاموں کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ، امدادی تنظیموں کو  مزید پریشان کر دیا ہے۔

شدید امداد کے محتاج فلسطینی

فلسطینیوں کے حوالے سے اس صورتحال نے  پہلے ہی سے سنگین صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ غزہ کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، خوراک اور طبی سہولیات تک رسائی سخت محدود ہے اور تقریباً تقریباً ساری  آبادی  بے گھر ہو چُکی ہے۔

اسرائیل کی بے رحمانہ نسل کشی جنگ  کے دوران کئی ماہ تک بند رہنے کے بعد  مصر کے ساتھ سرحدی چوکی کو  چند ہی دن پہلے محدود شہری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا ۔

بین الاقوامی سطح پر غزہ میں اسرائیلی رویے کی سخت تحقیق میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عدالتی ادارے 'بین الاقوامی عدالتِ انصاف' نے کہا ہے کہ اسرائیلی کاروائیوں کو نسل کُشی تشکیل دے سکنے کی اہل قرار دینے سے متعلق دعوے معقول ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض حربے انسانیت سوز جرائم یا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

تاہم رفح چوکی کے بند ہونے کا غزہ کے شہریوں پر فوری اثر واضح ہے یعنی وہ دوبارہ دنیا سے کَٹ گئے ہیں،مداد تک رسائی کم ہوتی جا رہی ہے اور علاقائی کشیدگی کے پھیلنے کا خطرہ غیر یقینی صورتحال  میں اضافہ کر رہا ہے۔

دریافت کیجیے
سعودی عرب: امریکہ ہُرمز سے ناکہ اٹھائے
چین اور ہسپانیہ، منتشر ہوتے عالمی نظام کے مقابل، مضبوط باہمی تعلقات کی تلاش میں
امریکی پابندیوں میں شامل چینی ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر گیا
ہم پر حملوں میں ملوث 5 عرب ریاستیں معاوضہ ادا کریں:ایران
"ایندھن کا بحران" برقی گاڑیوں کی طلب میں اضافہ
مقبوضہ مغربی کنارے کے عملی "جزوی الحاق" کو روکا جائے: میرز
اسلام آباد میں جوہری مول تول: امریکہ کا مطالبہ 20 سال ایران کی پیشکش 5 سال
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں