دنیا
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
اسرائیل کے رفح سرحدی چوکی کو بند کرنے کے بعد غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا
اسرائیل نے رفح سرحدی چوکی دوبارہ بند کر دی
مصر کے ساتھ رفح کی سرحد مہینوں بند رہنے کے بعد حال ہی میں محدود شہری نقل و حرکت کے لیے دوبارہ کھولی گئی تھی۔ / Reuters
13 گھنٹے قبل

اسرائیل کے بروز ہفتہ رفح گذرگاہ کو بند کرنے کے بعد غزہ کا بیرونی دنیا کے ساتھ رابطہ ایک بار پھر منقطع ہو گیا ہے۔

رفح سرحدی چوکی بند ہونے سے ان خدشات میں بھی اضافہ ہو گیا ہے کہ اس محصور علاقے میں پھنسے عام لوگوں کو دو سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے بے رحمانہ اسرائیلی حملوں کے بعد اور بھی سخت حالات کا سامنا کرنا پڑ جائے گا۔

اسرائیلی فوج کے سِول  رابطہ شعبے COGAT نے کہا  ہےکہ یہ قدم ایران پر اسرائیل اور امریکہ کے مشترکہ حملے کے بعد  "اٹھایا گیا ضروری حفاظتی قدم" ہے اور علاقائی تناؤ میں کمی کے لئے  جاری سفارتی کوششوں کے باوجود بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث اٹھایا گیا ہے۔

سِول  رابطہ شعبے نے غزہ میں انسانی امدادی عملے کے دَوری داخلے کو بھی  مؤخر  کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان نے ، پہلے ہی اپنے امدادی کاموں کو برقرار رکھنے کی جدوجہد میں مصروف ، امدادی تنظیموں کو  مزید پریشان کر دیا ہے۔

شدید امداد کے محتاج فلسطینی

فلسطینیوں کے حوالے سے اس صورتحال نے  پہلے ہی سے سنگین صورتِ حال کو مزید بگاڑ دیا ہے۔ غزہ کا زیادہ تر بنیادی ڈھانچہ تباہ ہو چکا ہے، خوراک اور طبی سہولیات تک رسائی سخت محدود ہے اور تقریباً تقریباً ساری  آبادی  بے گھر ہو چُکی ہے۔

اسرائیل کی بے رحمانہ نسل کشی جنگ  کے دوران کئی ماہ تک بند رہنے کے بعد  مصر کے ساتھ سرحدی چوکی کو  چند ہی دن پہلے محدود شہری آمد و رفت کے لیے دوبارہ کھولا گیا تھا ۔

بین الاقوامی سطح پر غزہ میں اسرائیلی رویے کی سخت تحقیق میں بھی اضافہ ہو گیا ہے۔

اقوامِ متحدہ کے اعلیٰ عدالتی ادارے 'بین الاقوامی عدالتِ انصاف' نے کہا ہے کہ اسرائیلی کاروائیوں کو نسل کُشی تشکیل دے سکنے کی اہل قرار دینے سے متعلق دعوے معقول ہیں۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں اور اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ بعض حربے انسانیت سوز جرائم یا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتے ہیں۔

تاہم رفح چوکی کے بند ہونے کا غزہ کے شہریوں پر فوری اثر واضح ہے یعنی وہ دوبارہ دنیا سے کَٹ گئے ہیں،مداد تک رسائی کم ہوتی جا رہی ہے اور علاقائی کشیدگی کے پھیلنے کا خطرہ غیر یقینی صورتحال  میں اضافہ کر رہا ہے۔

دریافت کیجیے
پاکستان کی افغانستان میں فضائی کارروائیاں جاری
امریکہ نے ایران میں "بڑی جنگی کارروائیاں" شروع کر دی ہیں، صدر ٹرمپ
امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے کے بعد دنیا بھر میں خطرے کے بادل منڈلانے لگے
اسرائیل نے ایران پر حملہ کر دیا
اسرائیل کے جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے مقامات پر حملے
کینیڈا نے تل ابیب سے عملے کو واپس بلا لیا اور اپنے شہریوں سے ایران سے نکلنے کا انتباہ
امریکہ کی افغانستان کے خلاف پاکستانی فضائی آپریشنز کی حمایت
افغانستان کی طالبان انتظامیہ کے331 اہلکار و خوارج ہلاک
پاکستان نے افغانستان سرحد پر تناؤ کے درمیان ڈرون حملے ناکام بنا دیے
امریکی طیارہ بردار جہاز جیرالڈ فورڈ اسرائیل پہنچ گیا
نیٹ فلکس کی خریداری کا معاملہ،پیراماونٹ  کی پیشکش
آئی اوسی کا اسرائیل کے 'عملی الحاق' منصوبوں سے متعلق ہنگامی اجلاس
ایران نے افغانستان-پاکستان تنازعے میں ثالثی کی پیشکش کر دی
امریکہ-ایران کے جوہری مذاکرات،پیش رفت کا اعلان
پاکستان نے  افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع کر دیا