سیاست
2 منٹ پڑھنے
کریملن: ٹرمپ کے سخت مؤقف کا مطلب امریکہ روس مذاکرات کا خاتمہ نہیں
ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مکالمہ اس وقت بہتر ہوا تھا جب ٹرمپ نے جنوری میں صدارت کا منصب سنبھالا تھا۔
کریملن: ٹرمپ کے سخت مؤقف کا مطلب امریکہ روس مذاکرات کا خاتمہ نہیں
Russian President Vladimir Putin meets with Interim President of the Republic of Mali Assimi Goita, in Moscow / Reuters
19 جولائی 2025

کریملن کا کہنا ہے کہ کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یوکرین میں جاری جنگ کے باعث روس کے خلاف سخت مؤقف اختیار کرنا، ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات کو بحال کرنے کی کوششوں کے خاتمے کامفہوم نہیں رکھتا۔

ٹرمپ نے پیر کے روز اپنے نئے مؤقف کا اعلان کرتے ہوئے روس کو یوکرین میں جنگ بندی کے لیے 50 دن کی مہلت دی۔ بصورتِ دیگر روس کو سخت پابندیوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔
علاوہ ازیں  ٹرمپ کی جانب سے یوکرین کو مزید میزائل فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا گیا، جسے روسی وزارت خارجہ نے جمعرات کے روز شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

جب ٹرمپ کے ان بیانات کے بارے میں کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف سے سوال کیا گیا کہ آیا یہ پیش رفت امریکہ اور روس کے تعلقات کی بحالی کے لیے جاری مذاکرات کے خاتمے کی علامت ہے، تو انہوں نے کہا:"ہم یہ نہیں سمجھتے کہ اس کا مطلب یہ ہے۔ یہ دو مختلف معاملات ہیں۔ ایک مسئلہ یوکرین میں حل ، جبکہ دوسرا معاملہ ہمارے دوطرفہ تعلقات سے متعلق ہے۔"

ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان مکالمہ اس وقت بہتر ہوا تھا جب ٹرمپ نے جنوری میں صدارت کا منصب سنبھالا تھا۔
تاہم، کریملن کے صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے ممکنہ جنگ بندی کے لیے پیش کی گئی شرائط کی وجہ سے ٹرمپ کی مایوسی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

روسی اور یوکرینی حکام نے اس سال کے آغاز میں ترکیہ میں دو مرحلوں پر مشتمل امن مذاکرات کیے، جن کے نتیجے میں قیدیوں اور فوجی اہلکاروں کی لاشوں کے تبادلے پر معاہدہ ہوا۔

تاہم، تیسری دور کی بات چیت کے لیے تاحال کوئی تاریخ طے نہیں کی گئی، اور دونوں فریق اب بھی جنگ بندی یا کسی حتمی امن معاہدے کی شرائط پر متفق ہونے سے بہت دور ہیں۔

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن