پاکستان، آزاد کشمیر میں پولیس اور کالعدم تنظیم جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی 'JAAC' کے درمیان جھڑپ میں سات افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہو گئے ہیں۔
معاشی اور انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کرنے والی حکومت مخالف تحریک 'جائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی' کے حامیوں نے اعلان کیا تھا کہ وہ، مقامی حکومت کی جانب سے انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت تنظیم پر پابندی عائد کیے جانے کے باوجود، احتجاج جاری رکھیں گے۔
حالیہ جھڑپوں کے مقام راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحیدنے تین شہریوں کے ہلاک اور 40 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے۔
پولیس نے ان واقعات میں چار پولیس اہلکاروں کے ہلاک اور 23 کے زخمی ہونے کی بھی تصدیق کی ہے۔
پولیس کے مطابق JAAC کے مرکزی دفتر کو اتوار کے روز سیل کر دیا گیا اور آزاد کشمیر کے سب سے بڑے شہر مظفر آباد میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے کے نمائندے کے مطابق، مظفرآباد میں کاروباری مراکز کھلے رہے تاہم سکیورٹی فورسز پیر کے روز شہر میں گشت کرتی رہیں۔ شہر کے رہائشیوں نے متوقع احتجاج اور ممکنہ کرفیو کے پیش نظر ہفتے کے آخر میں ضروری اشیا خریدنے کے لیے دکانوں کا رخ کیا۔
JAAC کے ارکان کا کہنا ہے کہ انہیں "دہشت گرد تنظیم" قرار دینا ایک "ظلم" ہے اور وہ اپنے جائز معاشی و سیاسی حقوق کے لیے احتجاج کر رہے ہیں۔
حکام نے تصدیق کی ہےکہ ہفتے کے آخر میں JAAC کے 70 سے زائد ارکان کو گرفتار کیا گیا ہے۔














