سیاست
2 منٹ پڑھنے
حزب الله، حکومتِ لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہ راست مذاکرات بند کر دے
حزب اللہ نے اسرائیل پر جنوبی لبنان میں اپنی موجودگی کو مستحکم کرنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا اور بیروت سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک فوری شکایت درج کرنے کا مطالبہ کیا۔
حزب الله، حکومتِ لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہ راست مذاکرات بند کر دے
اسرائیلی افواج جنوبی لبنان میں دوبارہ داخل ہونے کے بعد لبنانی فوج کے مواضع کے قریب مٹی کا بند تعمیر کر رہی ہیں، 8 اگست 2026۔

اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جنوبی لبنان کے بڑے حصے کو اسرائیلی علاقے کے طور پر دکھائے جانے کے بعد حزب اللہ نے حکومتِ لبنان  سے مطالبہ کیا  ہےکہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات روک دے۔

حزب اللہ کا کہنا تھا کہ نقشے نے لبنانی سر زمین اور وسائل پر اسرائیلی خواہشات بے نقاب کر دی ہیں اور تل ابیب پر الزام عائد کیا کہ وہ میدانِ عمل پر نئی چیزیں مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

یہ نقشہ جمعہ کو اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے عربی زبان کے اکاؤنٹ سے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیا گیا تھا، جس میں جنوبی لبنان کے وسیع علاقے کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا تھا۔

حزب اللہ نے کہا کہ یہ نقشہ مذاکراتی راستے کو کمزور کرتا ہے اور الزام لگایا کہ اسرائیل براہِ راست مذاکرات کو وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے  اور یہ  لبنانی سرزمین پر اپنے وجود کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔

گروہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ براہِ راست مذاکرات ختم کرے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے فوری شکایت درج کرائے۔

اس نے لبنانی  اعلیٰ دفاعی کونسل سے ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور ملک کی خودمختاری، سرحدی حدود اور وسائل کے دفاع کے لیے متحدہ جواب دینے کا بھی مطالبہ کیا۔

اتوار کی شام تک لبنانی حکام نے اس نقشے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ بیروت نے بارہا جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں نے جمعرات کو روم میں امریکی ثالثی میں ساتویں دور کی بات چیت مکمل کی۔

بات چیت کا محور 26 جون کو طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو نافذ کرنا رہا۔

جاری مذاکرات کے باوجود، جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے 2 مارچ سے جاری ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 12,250 زخمی ہوئے ہیں۔

اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے حصوں پر قابض ہے، جن میں دہائیوں سے زیرِ قبضہ علاقے بھی شامل ہیں اور 2023-2024 کی جنگ کے دوران جو علاقے قبضے میں لیے گئے، وہاں اس کی فورسز نے لبنانی حدود میں 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔

 

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک