اسرائیلی وزارتِ خارجہ کی طرف سے جنوبی لبنان کے بڑے حصے کو اسرائیلی علاقے کے طور پر دکھائے جانے کے بعد حزب اللہ نے حکومتِ لبنان سے مطالبہ کیا ہےکہ وہ اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات روک دے۔
حزب اللہ کا کہنا تھا کہ نقشے نے لبنانی سر زمین اور وسائل پر اسرائیلی خواہشات بے نقاب کر دی ہیں اور تل ابیب پر الزام عائد کیا کہ وہ میدانِ عمل پر نئی چیزیں مسلط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔
یہ نقشہ جمعہ کو اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے عربی زبان کے اکاؤنٹ سے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شائع کیا گیا تھا، جس میں جنوبی لبنان کے وسیع علاقے کو اسرائیل کا حصہ دکھایا گیا تھا۔
حزب اللہ نے کہا کہ یہ نقشہ مذاکراتی راستے کو کمزور کرتا ہے اور الزام لگایا کہ اسرائیل براہِ راست مذاکرات کو وقت حاصل کرنے کے لیے استعمال کر رہا ہے اور یہ لبنانی سرزمین پر اپنے وجود کو مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
گروہ نے حکومت پر زور دیا کہ وہ براہِ راست مذاکرات ختم کرے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے فوری شکایت درج کرائے۔
اس نے لبنانی اعلیٰ دفاعی کونسل سے ہنگامی اجلاس طلب کرنے اور ملک کی خودمختاری، سرحدی حدود اور وسائل کے دفاع کے لیے متحدہ جواب دینے کا بھی مطالبہ کیا۔
اتوار کی شام تک لبنانی حکام نے اس نقشے پر عوامی طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا تھا۔ بیروت نے بارہا جنوبی لبنان سے مکمل اسرائیلی انخلاء کا مطالبہ کیا ہے۔
یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب لبنانی اور اسرائیلی مذاکرات کاروں نے جمعرات کو روم میں امریکی ثالثی میں ساتویں دور کی بات چیت مکمل کی۔
بات چیت کا محور 26 جون کو طے پانے والے فریم ورک معاہدے کو نافذ کرنا رہا۔
جاری مذاکرات کے باوجود، جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے 2 مارچ سے جاری ہیں۔ لبنانی وزارتِ صحت کے مطابق ان حملوں میں 4,333 افراد ہلاک اور 12,250 زخمی ہوئے ہیں۔
اسرائیل اب بھی جنوبی لبنان کے حصوں پر قابض ہے، جن میں دہائیوں سے زیرِ قبضہ علاقے بھی شامل ہیں اور 2023-2024 کی جنگ کے دوران جو علاقے قبضے میں لیے گئے، وہاں اس کی فورسز نے لبنانی حدود میں 10 کلومیٹر سے زیادہ پیش قدمی کی ہے۔


















