دنیا
3 منٹ پڑھنے
ہمارے تیل کے بغیر عالمی منڈیاں غیر مستحکم رہیں گی:روس
واضح رہے کہ  واشنگٹن پر روس کے خلاف مزید پابندیاں اٹھانے کا دباؤ بڑھ گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ رسد کو  کم  کیے ہوئے ہے
ہمارے تیل کے بغیر عالمی منڈیاں غیر مستحکم رہیں گی:روس
کیریل دمیتریئف / Reuters
13 مارچ 2026

ماسکو نے کہا  ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی اس کے تیل کے بغیر مستحکم نہیں رہ سکتی۔

 واضح رہے کہ  واشنگٹن پر روس کے خلاف مزید پابندیاں اٹھانے کا دباؤ بڑھ گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ رسد کو  کم  کیے ہوئے ہے۔

امریکہ نے یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے باعث عائد کچھ تیل پابندیاں نرم کی ہیں جس پر مغربی اتحادیوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا اور واشنگٹن سے کہا کہ وہ پابندیوں کو برقرار رکھے

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کے خلیجی خطے میں جوابی حملوں نے عالمی توانائی اور ترسیلی شعبوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اسٹریٹجک طور پر اہم ہرمز  گزرگاہ میں نقل و حمل تقریباً رک گئی ہے۔

امریکہ عارضی طور پر روسی تیل کی فروخت کی اجازت دے رہا ہے ۔

یاد رہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔

اس ہفتے تیل کی قیمتیں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو وبا کے بعد سے سب سے زیادہ سطح ہے۔

روس کے اقتصادی نمائندے کرِل دِمتریف نے جمعہ کو کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مزید پابندیاں نرم کرنا زیادہ سے زیادہ ناگزیرہوتا جا رہا ہے۔

دِمتریف نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ امریکہ مؤثر طریقے سے واضح حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے، روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی کی منڈی مستحکم نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ برسلز کے بعض بیوروکریٹس کی طرف سے مزاحمت موجود ہے البتہ بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے درمیان روسی  وسائل پر پابندیوں میں مزید نرمی بظاہر ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

لیکن فرانسیسی صدر امانویل  ماکروں  جو جی -7 کی عبوری  صدارت سنبھال رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہرمز کی گزرگاہ کا بند ہونا کسی بھی طور سے  روس پر عائد پابندیاں اٹھانے کا جواز نہیں بنتا۔

ماکروں  نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اقتصادی اثرات پر بات کرنے کے لیے دیگر جی 7 رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کال کے بعد کہا کہ اجماع یہ تھا کہ ہمیں روس کے بارے میں اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرنی  چاہیئے۔

جمعرات کو امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک لائسنس جاری کیا جو روسی خام تیل اور تیل مصنوعات کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دیتا ہے جو 12 مارچ کو رات 12:01 بجے یا اس سے قبل جہازوں پر لوڈ کی گئی تھیں اور یہ اجازت 11 اپریل کو رات 12:01 بجے تک برقرار رہے گی۔

یہ اقدام اس کے بعد آیا کہ واشنگٹن نے پچھلے ہفتے عارضی طور پر سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل کو بھارت کو بیچنے کی اجازت دی تھی۔

خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسینٹ نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے لیے دی گئی اجازت بہت محدود اور قلیل مدت اقدام تھی۔

دِمتریف نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا کہ وہ فلوریڈا میں امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ایک  اجلاس میں شامل ہوئے تھے جو ایران کی جنگ کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پہلی بات چیت تھی۔

 

دریافت کیجیے
پاکستان کے مذاکرات میں پیش رفت ہوئی ہے :جے ڈی وینس
آبنائے ہرمز کی بندش سے عالمی معیشت غیر مستحکم ہوجائے گی:آسیان
بن گویر کا مسجدِ اقصیٰ پر دھاوا: میں اس جگہ کا مالک ہوں
جنگ بندی کے بعد روس-یوکرین جھڑپوں کی اطلاع
ہنگری:اوربان کا 16 سالہ اقتدار ختم ،ماگیار کو واضح برتری
روس۔یوکرین ایسٹر فائربندی ختم ہو گئی
سوڈان: لاکھوں انسان صرف ایک وقت کھانا کھا رہے ہیں
اسلام آباد میں امن مذاکرات کے غیر نتیجہ خیز ہونے پر ٹرمپ ایران پر نئے فوجی حملوں پر غور کر رہے ہیں
ایران اور امریک اسلام آباد میں مذاکرات کے ختم ہونے سے قبل معاہدے کے بہت قریب تھے: عراقچی
ٹرمپ نے پوپ لیو پر بھی چڑھائی کر دی: مجھے ایسا پوپ نہیں چاہیئے
امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کر دی، تیل کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں
ترکیہ: پانچواں انطالیہ ڈپلومیسی فورم عالمی رہنماوں کی میزبانی کے لئے تیار
ترک پراسیکیوٹروں نے نیتن یاہو کے خلاف فردِ جرم تیار کر لی
اسرائیل حزبِ اختلاف: نیتن یاہو ناکام رہے ہیں
عالمی صمود بحری بیڑہ دوبارہ غزہ کے لئے عازمِ سفر