دنیا
3 منٹ پڑھنے
ہمارے تیل کے بغیر عالمی منڈیاں غیر مستحکم رہیں گی:روس
واضح رہے کہ  واشنگٹن پر روس کے خلاف مزید پابندیاں اٹھانے کا دباؤ بڑھ گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ رسد کو  کم  کیے ہوئے ہے
ہمارے تیل کے بغیر عالمی منڈیاں غیر مستحکم رہیں گی:روس
کیریل دمیتریئف / Reuters

ماسکو نے کہا  ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی اس کے تیل کے بغیر مستحکم نہیں رہ سکتی۔

 واضح رہے کہ  واشنگٹن پر روس کے خلاف مزید پابندیاں اٹھانے کا دباؤ بڑھ گیا کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ رسد کو  کم  کیے ہوئے ہے۔

امریکہ نے یوکرین کے خلاف روسی جنگ کے باعث عائد کچھ تیل پابندیاں نرم کی ہیں جس پر مغربی اتحادیوں نے سخت ردِ عمل ظاہر کیا اور واشنگٹن سے کہا کہ وہ پابندیوں کو برقرار رکھے

امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں اور تہران کے خلیجی خطے میں جوابی حملوں نے عالمی توانائی اور ترسیلی شعبوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، اور اسٹریٹجک طور پر اہم ہرمز  گزرگاہ میں نقل و حمل تقریباً رک گئی ہے۔

امریکہ عارضی طور پر روسی تیل کی فروخت کی اجازت دے رہا ہے ۔

یاد رہے کہ روس دنیا کے بڑے تیل پیدا کرنے اور برآمد کرنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔

اس ہفتے تیل کی قیمتیں تقریباً 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئیں، جو وبا کے بعد سے سب سے زیادہ سطح ہے۔

روس کے اقتصادی نمائندے کرِل دِمتریف نے جمعہ کو کہا کہ واشنگٹن کی جانب سے مزید پابندیاں نرم کرنا زیادہ سے زیادہ ناگزیرہوتا جا رہا ہے۔

دِمتریف نے ٹیلیگرام پر لکھا کہ امریکہ مؤثر طریقے سے واضح حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے، روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی کی منڈی مستحکم نہیں رہ سکتی۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ برسلز کے بعض بیوروکریٹس کی طرف سے مزاحمت موجود ہے البتہ بڑھتے ہوئے توانائی بحران کے درمیان روسی  وسائل پر پابندیوں میں مزید نرمی بظاہر ناگزیر دکھائی دیتی ہے۔

لیکن فرانسیسی صدر امانویل  ماکروں  جو جی -7 کی عبوری  صدارت سنبھال رہے ہیں انہوں نے کہا کہ ہرمز کی گزرگاہ کا بند ہونا کسی بھی طور سے  روس پر عائد پابندیاں اٹھانے کا جواز نہیں بنتا۔

ماکروں  نے امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے اقتصادی اثرات پر بات کرنے کے لیے دیگر جی 7 رہنماؤں کے ساتھ ویڈیو کال کے بعد کہا کہ اجماع یہ تھا کہ ہمیں روس کے بارے میں اپنی پوزیشن تبدیل نہیں کرنی  چاہیئے۔

جمعرات کو امریکی وزارتِ خزانہ نے ایک لائسنس جاری کیا جو روسی خام تیل اور تیل مصنوعات کی فروخت اور ترسیل کی اجازت دیتا ہے جو 12 مارچ کو رات 12:01 بجے یا اس سے قبل جہازوں پر لوڈ کی گئی تھیں اور یہ اجازت 11 اپریل کو رات 12:01 بجے تک برقرار رہے گی۔

یہ اقدام اس کے بعد آیا کہ واشنگٹن نے پچھلے ہفتے عارضی طور پر سمندر میں پھنسے ہوئے روسی تیل کو بھارت کو بیچنے کی اجازت دی تھی۔

خزانہ کے سیکرٹری اسکاٹ بیسینٹ نے زور دے کر کہا کہ بھارت کے لیے دی گئی اجازت بہت محدود اور قلیل مدت اقدام تھی۔

دِمتریف نے اس ہفتے کے اوائل میں کہا کہ وہ فلوریڈا میں امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ایک  اجلاس میں شامل ہوئے تھے جو ایران کی جنگ کے آغاز کے بعد ماسکو اور واشنگٹن کے درمیان پہلی بات چیت تھی۔

 

دریافت کیجیے
روسی حملوں میں ایک بچہ سمیت تین افراد ہلاک، متعدد زخمی
سربراہ فوج کی رپورٹ کے مطابق امریکی حکام ایران جنگ سے نکلنے کا راستہ تلاش کر رہے ہیں
تھائی لینڈ میں ایک نوجوان نے اپنے دادا دادی کو قتل کرنے کے بعد اسکول میں دھاوا بول دیا
روس کے وائلڈبیریز ہب پر ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اٹھی
یونیسف: غزہ میں فائر بندی کے بعد سے 300 بچوں قتل کئے جا چُکے ہیں
پاکستان: وزیرِ اعظم شہباز شریف سعودی عرب کے دورے پر
سلامتی کونسل کی طرف سے پاکستان میں ہونے والے خونریز دہشت گردانہ حملے کی مذّمت
ایرانی مذاکرات کار: امریکہ 'لوپ تھیٹر ڈپلومیسی' میں مصروف ہے
حوثی حملوں میں 58 یمنی فوجی ہلاک، سعودی عرب میں شہریوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات
اسرائیلی آبادکاروں کا فلسطینیوں پر حملہ،متعدد زخمی
جاپان: ہیروشیما پر امریکی ایٹمی بمباری کی 81 ویں سالانہ یاد
جاپان کی وزیر اعظم کا غیر جوہری اصولوں کو برقرار رکھنے کے واضح وعدے سے گریز
سی آئی اے نے کیوبا کے لیے پوشیدہ ٹاسک فورس تشکیل  دے دی
یکاترینبرگ کے قریب کار دھماکہ، روسی ڈرون بنانے والی کمپنی کے سربراہ شدید زخمی
لبنانی مہاجرین اپنے گھروں کو واپس لوٹنا شروع ہو گئے ہیں: اقوامِ متحدہ