مقامی پولیس نے جمعے کو تصدیق کی کہ شمال مغربی خیبر پختونخواہ میں ایک سکیورٹی ادارے پر خودکش حملے میں ایک عام شہری اور کم از کم نو پاکستانی سکیورٹی اہلکار ہلاک ہو گئے۔
پولیس کے مطابق اس حملے میں مزید 35 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ جمعرات کی شب پیش آیا جب ایک دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی نے افغانستان سے ملحقہ باجور ضلع کے اسکاؤٹس کیمپ میں داخل ہونے کی کوشش کی۔
اسکاؤٹس کیمپ کا دروازہ اور آس پاس کی دیواروں کو نقصان پہنچا۔
باجوڑ میں یہ پُرتشدد کارروائی کشیدگی کے شکار خطے میں گزشتہ ہفتے پیش آنے والے مہلک کار بم اور مارٹر حملے کے بعد ہوئی، جس میں افغانستان سے ملحقہ علاقے میں 21 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔
پشاور کے ایک سینئر سکیورٹی اہلکار نے کہا، 'حملے میں9 پیرامیلیٹری اہلکار اور دس عسکریت پسند ہلاک ہوئے،' اور بتایا کہ حملہ آوروں نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی کمپاؤنڈ میں گھسا دی۔
سرکاری اہلکار نے مزید کہا کہ سکیورٹی فورسز کے ساتھ طویل فائرنگ کے تبادلے کے بعد حملہ آور فرار ہو گئے، جن میں کم از کم35 سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔
باجوڑ کے ایک اور سینئر حکومتی اہلکار نے ہلاکتوں کی تعداد کی تصدیق کی۔
اس علاقے میں فعال عسکری تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔
پاکستان افغانستان پر دہشت گردوں کے ٹھکانے فراہم کرنے کا الزام لگاتا ہے، جب کہ افغانستان اس دعوے کی تردید کرتا ہے۔
حالیہ مہینوں میں دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان کشیدگی مہلک مسلح تصادم کی شکل اختیار کر چکی ہے۔















