دنیا
3 منٹ پڑھنے
امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ نئے اسلحہ معاہدوں کا اعلان کیا گیا ہے:زیلنسکی
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 5 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور انٹرسیپٹر ڈرونز سمیت مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے کے لئے نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں
امریکا اور ڈنمارک کے ساتھ نئے اسلحہ معاہدوں کا اعلان کیا گیا ہے:زیلنسکی
/ Reuters

یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے 5 جولائی کو اعلان کیا تھا کہ انہوں نے بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں اور انٹرسیپٹر ڈرونز سمیت مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافے کے لئے نئے معاہدوں پر دستخط کیے ہیں۔

زیلنسکی نے ایک ویڈیو خطاب میں کہا، "ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ مشترکہ ہتھیاروں کی پیداوار میں اضافہ کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ڈرون ز کی تیاری کے لیے نجی امریکی کمپنی سوئفٹ بیٹ ایل ایل سی کے ساتھ رواں ہفتے ایک نیا معاہدہ طے پایا ہے۔ کمپنی امریکی حکومت سے آزادانہ طور پر کام کرتی ہے اور اسے گوگل کے سابق سی ای او ایرک شمٹ کی حمایت حاصل ہے۔

زیلنسکی کے دفتر کے مطابق، سوئفٹ بیٹ کی یوکرین میں ایک مستحکم موجودگی ہے. کیف انڈیپینڈنٹ نے سرکاری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کمپنی خود مختار، مصنوعی ذہانت سے چلنے والے ڈرونز میں مہارت رکھتی ہے اور یوکرین کے انجینئرز اور فوج کے ساتھ قریبی تعاون کرتی ہے اور یوکرین کی سرزمین پر براہ راست ڈرون ٹیسٹ کرتی ہے۔

 زیلنسکی نے اس سے قبل کہا تھا کہ نئی شراکت داری سے مختلف قسم کے ڈرونز اور میزائلوں کی پیداوار میں نمایاں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی جن میں جاسوسی اور فائر ایڈجسٹمنٹ کے لیے استعمال ہونے والے کواڈ کوپٹرز کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز بھی شامل ہیں۔

یوکرین کے لئے ہتھیاروں کی پہلی غیر ملکی مشترکہ پیداوار کے لئے ڈنمارک کے ساتھ ایک اور معاہدے پر دستخط کیے گئے۔

یوکرین کے صدر نے کہا، "ہم ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جو ہماری ریاست اور عوام کے ساتھ کھڑے ہیں، یوکرین کے فوجی صنعتی کمپلیکس کی حمایت کرتے ہیں اور اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط کرتے ہیں۔

 ہتھیاروں کی اہم کھیپ

 یہ اعلان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یوکرین روس کی جنگ کے دوران مزید ہتھیاروں کے حصول اور ملکی پیداوار کو بڑھانے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جو اب اپنے چوتھے سال میں ہے۔

یکم جولائی کو، امریکہ، جو 2022 میں روس کی مکمل پیمانے پر جنگ کے آغاز کے بعد سے یوکرین کا سب سے بڑا فوجی حمایتی ہے، نے کہا کہ وہ یوکرین کو کچھ اہم ہتھیاروں کی ترسیل روک رہا ہے، جس کی وجہ سے یورپی اتحادیوں نے اس خلا کو پر کرنے کے لئے کوششیں تیز کردی ہیں.

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون اور برطانیہ کے وزیر اعظم کیئر اسٹارمر اگلے ہفتے دیگر یورپی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ایک اجلاس کی مشترکہ صدارت کریں گے تاکہ یوکرین کے دفاع کو مضبوط بنایا جا سکے۔

یہ مذاکرات 10 جولائی کو ویڈیو لنک کے ذریعے ہوں گے جس میں روسی جارحیت کے باوجود یوکرین کی جنگی صلاحیتوں کو برقرار رکھنے پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

 الیسی پیلس نے کہا کہ یوکرین کی جنگی صلاحیت کو سنجیدگی سے برقرار رکھنے کے بارے میں یقینی طور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

دریافت کیجیے
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی