ایران کی پاسداران انقلاب فورسز 'IRGC' نے کہا ہے کہ اگر امریکی افواج نے آبنائے ہُرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔
پاسدارانِ انقلاب فوج نے پیر کے روز جاری سرکاری ٹی وی IRIB پر نشر ہونے والے ایک بیان میں کہا: ہے کہ"ہم خبردار کرتے ہیں کہ کوئی بھی غیر ملکی مسلح قوت اور خاص طور پر قابض امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کے قریب آنے یا اس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو اس پر حملہ کیا جائے گا۔"
بیان کے مطابق، اس آبی گزرگاہ میں محفوظ آمدورفت اور جہازرانی ہر صورت تہران کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت ہی ممکن ہوگی۔
انقلابی دستوں نے جہازوں اور ٹینکروں کو بھی خبردار کیا ہےکہ وہ پیشگی رابطہ کئے بغیر اس راستے سے گزرنے کی کوشش نہ کریں کیونکہ اس سے ان کی سلامتی خطرے میں پڑ سکتی ہے۔
اس سے قبل امریکہ سنٹرل کمانڈ نے اعلان کیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے "فریڈم پروجیکٹ" کے تحت اس کی افواج آبنائے ہرمز سے آزادانہ گزرنے کے خواہش مند تجارتی جہازوں کی حمایت کریں گی۔
ایکس سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ سینٹ کوم کی افواج 4 مئی سے فریڈم پروجیکٹ کی حمایت شروع کریں گی تاکہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کی آزادی سیر و سفر کو بحال کیا جا سکے۔"
واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملے شروع کرنے کے بعد خطّے کی کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا ۔ حملوں کے جواب میں تہران نے خلیج میں اسرائیلی اہداف اور امریکی اتحادیوں پر جوابی حملے کئے تھے۔
واشنگٹن 13 اپریل سے ایران کے اس اہم آبی راستے میں بحری ٹریفک کو نشانہ بنانے والی ایک بحری ناکہ بندی نافذ کئے ہوئے ہے۔
8 اپریل کو پاکستان کی ثالثی میں دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا اور بعد میں 11 اپریل کو اسلام آباد میں مذاکرات بھی ہوئے تاہم یہ بات چیت کسی مستقل معاہدے پر منتج نہ ہو سکی۔
بعد ازاں ٹرمپ نے پاکستان کی درخواست پر جنگ بندی کی مدت میں توسیع کر دی تاہم کوئی نئی آخری تاریخ مقرر نہیں کی۔
ایران کی یہ تازہ دھمکی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی کی قبل ازیں دی گئی وارننگ کے بعد سامنے آئی ہے۔
ابراہیم عزیزی نے کہا تھا کہ"آبنائے ہرمز میں نئے بحری نظام میں کسی بھی امریکی مداخلت کو جنگ بندی کی خلاف ورزی تصور کیا جائے گا۔"
انہوں نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں اس خیال کو مسترد کیا تھا کہ اس آبنائے کو واشنگٹن کنٹرول کر سکتا ہے اور کہا تھا کہ آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کو "ٹرمپ کے خیالی سوشل میڈیا بیانات کے ذریعے نہیں چلایا جا سکتا۔"












