امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز جاری کردہ بیان میں کہا ہےکہ وائٹ ہاؤس کوریس پونڈنٹس ایسوسی ایشن کے عشائیے کے دوران ہونے والا مسلح حملہ مجھے ایران کے خلاف جنگ سے باز نہیں رکھ سکے گا تاہم میرے خیال میں اس واقعے کا اس تنازعےسے کوئی تعلق ہونے کا امکان کم ہے۔
ٹرمپ نے اس سکیورٹی واقعے کے بعد وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ "یہ واقعہ مجھے ایران میں جنگ جیتنے سے باز نہیں رکھ سکے گا۔ جو کچھ ہم جانتے ہیں اس کی بنیاد پر یہ کہنا مشکل ہے کہ اس معاملے کا اس واقعے سے کوئی تعلق ہے یا نہیں لیکن جہاں تک میری سوچ ہےمیں نہیں سمجھتا کہ ایسا ہے۔"
تاہم ٹرمپ اس سے قبل یہ بھی کہہ چکے ہیں کہ اس کا ایران جنگ سے تعلق ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ یہ آپ کبھی نہیں جان سکتے۔
ٹرمپ نے حملہ آور کو تنہا بھیڑیا کہا اور کہا ہے کہ تفتیش کار اس حملہ آور کے محرکات کی جانچ کر رہے ہیں ۔
ایک وفاقی پراسیکیوٹر کے مطابق ہفتے کے روز صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت سے واشنگٹن میں منعقدہ میڈیا گالا پر حملے کے الزام میں گرفتار مسلح ملزم پیر کے روز امریکی دارالحکومت میں عدالت کے سامنے پیش ہوگا ۔
خفیہ سروس کے اہلکاروں کے ساتھ مسلح تصادم کرنے لیکن خود زخمی ہونے سے بچے رہنے والے حملہ آور کو پیر کے روز ایک امریکی ضلعی جج کے سامنے پیش کیا جائے گا۔
امریکی پراسیکیوٹر جینین پیرو کے مطابق، ملزم پر پُرتشدد جرم کے دوران آتشیں اسلحہ استعمال کرنے اور ایک وفاقی اہلکار پر خطرناک ہتھیار سے حملہ کرنے کے الزامات عائد کیے جائیں گے۔
امریکی صدر نے ہفتے کے اوائل میں، تقریباً دو ماہ سے جاری جنگ کے بعد تہران کے مذاکراتی مؤقف سے دلچسپی نہ لینے کی وجہ سے اپنے ایلچیوں کا ،ایران کے ساتھ امن مذاکرات کی خاطر متوقع، دورہ پاکستان بھی منسوخ کر دیا تھا۔











