مشرق وسطی
3 منٹ پڑھنے
دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو جواب شدید ہوگا:خامنہ آئی
خامنہ ای سے منسوب بیان میں کہا گیا، 'اگر دشمنوں نے ایک بار پھر فوجی حملے یا دہشت گردانہ حملے کیے، تو یہ کب اور کن حالات میں ختم ہوں گے، اس کا فیصلہ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج اور ایرانی عوام کریں گے۔'
دشمن نے دوبارہ جارحیت کی تو جواب شدید ہوگا:خامنہ آئی
مجتبی خامنہ آئی

"ایران کے رہبر اعلی مجتبیٰ خامنہ ای نے، مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے دوبارہ شروع ہونے کے بڑھتے ہوئے دعووں کے درمیان، ملک کے فوجی کمانڈروں کو حکم دیا ہے کہ وہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی بھی حملے کا فوری اور 'جغرافیائی حدود سے ماورا جوابی کارروائی' سے جواب دیں۔

خامنہ ای کے دفتر سے جاری کردہ بیان کے مطابق، ایرانی رہنما نے ہفتے کے روز اعلیٰ سطح کے فوجی حکام سے ملاقات کی۔

اپنی ویب سائٹ پر شائع ہونے والے ایک تحریری بیان میں خامنہ ای نے کہا، 'خطرے کی سطح یا قسم کچھ بھی ہو، جواب فوری، مؤثر اور جغرافیائی حدود سے آزاد ہونا چاہیے۔'

بیان میں کہا گیا ہے کہ خامنہ ای نے ملاقات کے دوران 'اسٹریٹجک اور اہم' ہدایات دیں، تاہم اس ملاقات کے حوالے سے مزید تفصیلات شیئر نہیں کی گئیں۔ خامنہ ای کے دفتر نے اعلان کیا ہے کہ ان ہدایات کی تفصیلات آنے والے گھنٹوں میں جاری کی جائیں گی۔

خامنہ ای نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر شائع ہونے والے ایک علاحدہ بیان میں امریکہ کو نئے حملے کرنے کے خلاف خبردار کیا۔

خامنہ ای سے منسوب بیان میں کہا گیا، 'اگر دشمنوں نے ایک بار پھر فوجی حملے یا دہشت گردانہ حملے کیے، تو یہ کب اور کن حالات میں ختم ہوں گے، اس کا فیصلہ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج اور ایرانی عوام کریں گے۔'

اگرچہ ان بیانات میں کسی مخصوص نئے خطرے کی طرف اشارہ نہیں کیا گیا، لیکن ایران اور اس کے مخالفین کے درمیان تنازعات کے دوبارہ شروع ہونے کے امکانات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔

امریکہ اور اسرائیل نے 28 فروری کو ایران پر حملے شروع کیے تھے۔ جواب میں ایران نے اسرائیل اور خطے میں امریکی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا تھا۔ بعد میں فریقین کے درمیان اپریل میں جنگ بندی کا معاہدہ ہوا تھا اور تنازع کا پہلا مرحلہ ختم ہو گیا تھا۔

تاہم، اس وقت سے کشیدگی کو کم کرنے کی کوششوں کو مختلف رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ واشنگٹن اور تہران نے 18 جون کو آبنائے ہرمز  میں، جو دنیا کے اہم ترین سمندری تجارتی راستوں میں سے ایک ہے، جہاز رانی کی آزادی کے حوالے سے ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کیے تھے۔ لیکن آبنائے کی سیکیورٹی کے بارے میں اختلافات کی وجہ سے اس معاہدے کے نفاذ میں کوئی پیش رفت نہیں ہو سکی۔

خامنہ ای کے حالیہ بیانات مستقبل میں ہونے والی کسی بھی کشیدگی کی ذمہ داری ایران کے مخالفین پر ڈالتے ہیں، جبکہ اس بات پر زور دیتے ہیں کہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے خاتمے کے وقت اور طریقے کا فیصلہ ایران کی مسلح افواج اور اس کے عوام کریں گے۔"

 

دریافت کیجیے
ترکیہ، یومِ جمہوریہ کی 103 ویں سالگرہ منا رہا ہے
سویڈن: سرکاری ملازمین 'چیٹ جی پی ٹی' اور 'کلاوڈ' استعمال نہیں کریں گے۔
یوگنڈا: 36 لاکھ افراد شدید غذائی قلّت کا شکار
جرمنی میں ایک گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی، کم از کم چار افراد زخمی
روس اور یوکرین کے رات بھرحملوں میں 2 افراد ہلاک، 15 زخمی
ملائیشیا: ہم، میانمار حکومت سے وضاحت طلب کریں گے
کیلیان ایمباپے 3 چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری سے محروم ہو گئے
اسرائیلی فوج نے الخلیل شہر میں تقریباً 5 ہزار فلسطینیوں کو ان کے گھروں سے بے دخل کر دیا
سمندری طوفان 'ارنب' کی بھارت کی طرف پیش قدمی: ہزاروں افراد کا انخلا، ٹرینیں منسوخ ،اسکول بند
ایتھوپیا: حملوں میں کم از کم 60 آرتھوڈوکس عیسائی ہلاک
امریکی سینیٹر نے 9 امریکیوں کے قتل پر اسرائیل کی جوابدہی کا مطالبہ کر دیا
اسرائیل، 12500 سے زیادہ فلسطینی عورتوں کو قتل کر چُکا ہے
سعودی عرب، سنگاپور میں زیر زمین پیٹرول ذخیرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے
ترکیہ جینڈرمیری فورس نے 101 تمغے جیت لئے
نیتن یاہو کے خلاف غداری کا مقدمہ چلایا جائے:ایویگادور لیبرمین