دنیا
2 منٹ پڑھنے
ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ میں 'روسی خطرے' کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار
امریکی صدر کا دعویٰ ہے کہ نیٹو نے گزشتہ دو دہائیوں سے ڈنمارک سے آرکٹک میں سیکیورٹی خطرات کو حل کرنے کی اپیل کر رکھی ہے، تا ہم وہ اس پر عمل کرنے سے قاصر رہا ہے۔
ٹرمپ کی طرف سے گرین لینڈ میں 'روسی خطرے' کا مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار
ٹرمپ نے بارہا اصرار کیا ہے کہ وہ گرین لینڈ کی ملکیت سے کم پر راضی نہیں ہوں گے، جو ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے۔ / Reuters
19 جنوری 2026

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو اعلان کیا کہ واشنگٹن گرین لینڈ میں ‘روسی خطرے’ کو ختم کرنے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کرے گا۔

ٹرمپ نے اپنی ٹروتھ سوشل پوسٹ پر کہا:"نیٹو ڈنمارک کو پچھلے بیس سال سے بتاتا چلا آ رہا ہے کہ 'تمہیں گرین لینڈ سے روسی خطرے کو دور کرنا ہوگا۔' بدقسمتی سے، ڈنمارک اس بارے میں کچھ نہیں کر سکا۔ اب وقت آ گیا ہے، اور یہ کر دکھایا جائے گا۔"

یورپی یونین میں ڈنمارک کی صدارت اور ڈنمارک کے خارجہ امور کے وزیر نے رائٹرز کی تبصرے کی درخواست کا فوری طور پر جواب نہیں دیا۔

ٹرمپ نے بارہا زور دیا ہے کہ وہ ،  ڈنمارک کا خودمختار خطے گرین لینڈ کی ملکیت کے سوا کسی  دوسرے متبادل پر راضی نہیں ہوں گے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ دونوں کے رہنماؤں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ یہ جزیرہ  برائے فروخت نہیں ہے اور وہ امریکہ کا حصہ نہیں بننا  چاہتے۔

اتوار کو نیٹو کے سیکریٹری جنرل مارک رُٹ اور ٹرمپ نے فون پر گرین لینڈ اور آرکٹک کی سیکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ روٹ نے کہا کہ ہم  دونوں'اس معاملے پر کام جاری رکھیں گے اور میں(ٹرمپ) سے اس ہفتے داوس میں ملاقات کا منتظر ہوں۔'

گرین لینڈ طویل عرصے سے اپنی اسٹریٹجک محل وقوع اور وسیع معدنی وسائل کی وجہ سے امریکی دلچسپی کا مرکز رہا ہے، نیز مبینہ طور پر روسی اور چینی سرگرمیوں کے بڑھنے کے باعث بھی تشویش پائی جاتی ہے۔

ٹرمپ نے ایک نئے اقدام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گرین لینڈ پر امریکی کنٹرول کی مخالفت کی بنا پر واشنگٹن،  یکم فروری سے ڈنمارک، ناروے، سویڈن، فرانس، جرمنی، برطانیہ، نیدرلینڈز اور فن لینڈ سمیت آٹھ یورپی ممالک سے آنے والی اشیاء پر 10 فیصد محصول عائد کرے گا ۔ یہ شرح  جون میں 25 فیصد تک ہو جائیگی۔

اس اعلان کے بعد، آٹھوں یورپی ممالک نے اتوار کو ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے  امریکی دھمکی کی مذمت کی اور آرکٹک کی سلامتی کے لیے اپنی وابستگی کی تجدید کی۔

اس دوران، کریملن نے گزشتہ ہفتے گرین لینڈ کو قانونی طور پر ڈنمارک کا حصہ تسلیم کیا، اور جزیرے پر حالیہ صورتحال کو 'متنازع' قرار دیا۔

کریملن کے ترجمان دیمتری پیسکوف کا کہنا تھا :  کہ گرین لینڈ مملکتِ ڈنمارک کا ایک خطہ ہے۔'

 

دریافت کیجیے
نائجیریا میں ٹریفک حادثے میں کم از کم 30 افراد ہلاک
امریکہ خطے میں جو چاہے تعینات کر لے ہم خوفزدہ نہیں ہونگے:ایران
مودی کا دورہ ملائیشیا،دو طرفہ معاہدوں پر دستخط
شام: سویدا میں فائرنگ کا واقعہ،چار افراد ہلاک، ملزم گرفتار
سام سنگ نےچھٹی نسل کی ہائی بینڈ ودتھ میموری کی تیاری شروع کر دی
سوڈان میں آر ایس ایف کے اسپتال پر حملے،سعودی عرب کی مذمت
بھارت میں کوئلے کی کان میں دھماکہ، ہلاکتوں کی تعداد 27 ہو گئی
ہونڈوراس کے صدر میرے دوست اور قابل تعریف شخصیت ہیں:ٹرمپ
اسرائیل کا 'توسیعی منصوبہ' مشرق وسطی اور ایران کو کمزور کرنے کا ہدف ہے، عراقچی
روسی حملوں نے یوکرین کے گرڈ اسٹیشنوں کو وسیع پیمانے کا نقصان پہنچایا
نتن یاہو: 'ایپسٹین اسرائیل کے لیے کام نہیں کرتا تھا'
میلان گیمز کے افتتاحی تقریب میں اسرائیلی کھلاڑیوں پر غزہ میں کی گئی نسل کشی پر ہجوم کی ہوٹنگ
وزیر خارجہ فیدان کی یورپی یونین کے توسیع کمشنر سے باہمی تعاون کو بڑھانے کی اپیل
پاکستان: مسجد میں بم دھماکہ، 30 افراد ہلاک، 130 سے زیادہ زخمی
ترکیہ: موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا