امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے بعد کیوبا مستقبل میں امریکہ کی کارروائی کا ہدف بن سکتا ہے۔
ٹرمپ نے امریکہ کی وینزویلا اور ایران میں حالیہ فوجی کارروائیوں کو کامیابی قرار دیا۔
ٹرمپ نے جمعہ کو ایک سعودی بزنس کانفرنس فیوچر انویسٹمنٹ انیشی ایٹیو میں کہاکہ"میں نے یہ عظیم فوج بنائی۔ میں نے کہا تھا، اِسے کبھی استعمال نہیں کرنا پڑے گا'، مگر بعض اوقات اِسے استعمال کرنا پڑتا ہے۔ اور ہاں اس کی اگلی منزل کیوبا ہے۔لیکن فرض کر لیں کہ میں نے یہ نہیں کہا۔ براہِ مہربانی، فرض کر لیں کہ میں نے یہ نہیں کہا۔ پلیز، پلیز میڈیا، براہِ مہربانی اس بیان کو نظر انداز کریں۔
کیوبا کے نائب وزیرِ خارجہ نے گزشتہ اتوار کو ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ "کیوبا کسی ممکنہ امریکی 'فوجی جارحیت' کے برخلاف تیاریاں کر رہا ہے۔"
کارلوس فرناندیز دے کوسیو نے کہا تھا کہ "ہماری فوج ہمیشہ تیار رہتی ہے، اور حقیقت یہ ہے کہ یہ ان دنوں (امریکی) فوجی جارحیت کے امکان کےپیشِ نظر تیاری کر رہی ہے۔ اگر ہم دنیا بھر کی صورتحال پر نظر نہ رکھیں تو ہم بے عقل ہوں گے۔"
حملہ نہ ہونے کی امید کا اظہار کرتے ہوئے کاسّیو نے مزید کہا کہ اس کی کوئی توجیہہ نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید استفسار کیا کہ "امریکی انتظامیہ اپنے ملک کو کیوں مجبور کرے گی کہ وہ کیوبا جیسے ہمسایہ ملک کے خلاف فوجی کارروائی کرے؟"
منگل کو، امریکی وزیرِ خارجہ مارکو رووبیو نے کہا تھا کہ کیوبا کی قیادت ملک گیر بجلی کی بندش کو درست کرنے سے قاصر ہے اور اسے ایسا کرنے کے لیے نئے رہنماؤں کی ضرورت ہے۔
روبیو نے وائٹ ہاؤس میں رپورٹرز سے کہا کہ"کیوبا کی معیشت ٹھیک نہیں جا رہی اور وہاں کا سیاسی و حکومتی نظام اسے درست نہیں کر سکتا، لہٰذا انہیں ڈرامائی طور پر تبدیل ہونا ہوگا۔"
امریکہ اور کیوبا گزشتہ 65 سال سے ایک دوسرے کے مخالف رہے ہیں، تاہم ٹرمپ انتظامیہ نے واشنگٹن کی جانب سے دباؤ بڑھا دیا ہے۔









