کیف کے "خوش آئند" دورے کے بعد وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا کہ ترکیہ اور یوکرین اپنی اسٹرٹیجک شراکت داری کو جنگ کے باوجود مضبوط کر رہے ہیں، یہ دورہ دو طرفہ تعلقات، تجارت اور علاقائی سلامتی پر مرکوز تھا۔
جمعہ کو ایکس پر ایک بیان میں فیدان نے کہا کہ انہوں نے یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی، صدارتی دفتر کے سربراہ کیریلو بودانوف اور وزیر خارجہ اندرِی سیبیہا کے ساتھ جامع مذاکرات کیے، جن میں روس-یوکرین جنگ کی تازہ ترین پیش رفت کے علاوہ دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے توسیع کے امکانات زیرِ بحث آئے۔
فیدان نے کہا کہ"ہم اس بات پر بہت خوش ہیں کہ جنگ کے حالات کے باوجود ہمارے ممالک کے درمیان تعاون گہرا ہوتا جا رہا ہے،"
انہوں نے اپنی آمد سے قبل یوکرین کی پارلیمنٹ کی جانب سے ترکیہ-یوکرین آزاد تجارتی معاہدے کی منظوری کا خیرمقدم کیا، اس کو ایک بڑا سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ کاروبار کےنئے مواقع پیدا کرے گا اور دوطرفہ اقتصادی تعلقات کو نمایاں طور پر آگے بڑھائے گا۔
ترکیہ کی طرف سے امن کی حمایت کا اعادہ
دورے کے دوران، فیدان نے یوکرین کی آزادی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے ترکیہ کی حمایت کا اعادہ کیا اور ساتھ ہی انقرہ کی اس آمادگی کو بھی واضح کیا کہ وہ روس اور یوکرین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے کی کوششوں کی حمایت کرے گا۔
" انہوں نے کہا کہ ترکیہ ہر اُس اقدام کی حمایت کرنے کے لیے تیار ہے جو فریقین کو مذاکرات پر واپس لائے اور دیرپا امن میں حصہ ڈالے۔"
فیدان نے کریمیا کے تاتار قوم کے رہنما مصطفی عبدالجمیل کریموغلو اور کریمیا تاتار میجلِس کے چیئرمین ریفات چوباروف سے بھی ملاقات کی تاکہ کریمیا تاتار کمیونٹی کی صورتحال پر تبادلہِ خیال کیا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ کریمیا تاتاروں کے حقوق کا تحفظ اور ان کی ثقافتی شناخت کا تحفظ ترکی کے لیے ایک ترجیح بنی رہے گی۔
فیدان نے صدر زیلنسکی کی جانب سے ایک ریاستی اعزاز وصول کرنے پر بھی اظہارِ تشکر کیا، اسے اعزاز قرار دیا اور اس شناخت کے لیے یوکرینی حکام کا شکریہ ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے صدور کے وژن کے مطابق، باہمی اعتماد اور مشترکہ مفادات کی بنیاد پر، ترکی اپنی طویل المدتی دوستی اور اسٹرٹیجک شراکت داری کو مضبوط کرنا جاری رکھے گا۔













