غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
اسرائیلی فوج نے غزّہ میں تین سال سے کم عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اتنا گولہ بارود استعمال کیا ہے جواس نے گذشتہ 30 برسوں میں استعمال کیا تھا: معاریو
اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ میں 30 سال کے استعمال کے لائق گولیاں استعمال کی ہیں
طویل جنگوں کے دوران اسرائیلی فوج کو مالی اور افرادی قوت کے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے۔ (تصویر: فائل) / Reuters

اسرائیلی فوج نے تین سالہ جنگ کے دوران گذشتہ  30 سالوں میں استعمال کئے گئے   گولہ بارود  کے برابرا گولہ بارود استعمال کیا ہے۔

اسرائیلی اخبار معاریو کی خبرکے مطابق اسرائیلی فوج نے غزّہ میں تین سال سے کم عرصے تک جاری رہنے والی جنگ میں اتنا گولہ بارود استعمال کیا ہے جواس نے گذشتہ 30 برسوں میں استعمال کیا تھا۔ یہ صورتحال فوجی اہلکاروں، سازوسامان اور مالی وسائل پر بڑھتے ہوئے دباؤ کی نشاندہی کرتی ہے۔

معاریو کے مطابق اسی عرصے کے دوران اسرائیلی فضائیہ کی سرگرمیاں بھی معمول کے حالات میں تقریباً نو سال کی کارروائیوں کے برابر رہی  ہیں۔ ٹینکوں اور بکتر بند گاڑیوں میں استعمال کئے گئے انجنوں کی تعداد   ہزاروں تک پہنچ گئی ہے۔

اخبار نے کہا ہے  کہ فوجی سازوسامان کو تبدیل یا مرمت کیا جا سکتا ہے لیکن فوجی اہلکاروں پر پڑنے والے بوجھ کو کم کرنا یا اس کے اثرات کو ختم کرنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔

خبر کے مطابق، دیگر اسرائیلی سکیورٹی ادارے خارج، صرف فوجی جانی نقصان  1,138 فوجی ہے۔ اس کے علاوہ 11,730 افراد  جسمانی یا نفسیاتی طور پر متاثر ہوئے ہیں اورابھی مزید ہزاروں افراد کے  نفسیاتی صدمے کا شکار ہونے کا امکان ہے۔

تھکے ہوئے فوجی

مستقل فوجی اہلکاروں میں بھی دباؤ کی علامات سامنے آ رہی ہیں۔ جن فوجی اہلکاروں کو  کمانڈ کی ذمہ داریاں سونپی جاتی ہیں ان کی بڑی تعداد کم دباؤ والی پچھلی صفوں میں رہنے  کو ترجیح دے رہے یا مکمل طور پر فوج چھوڑ رہے ہیں۔

دریں اثنا، اسرائیلی فوج یومیہ  اوسطاً 53,000 ریزرو فوجیوں کو فعال ڈیوٹی پر بُلا رہی ہے۔

روزنامہ معاریو نے لکھا ہے  کہ گزشتہ سال ایک ماہ کی ریزرو فوجی سروس پر تقریباً 2.1 ارب شیکل خرچ ہوئے۔ یہ مصارف سات ایف-35 لڑاکا طیاروں یا 70 مرکاوا ٹینکوں کی قیمت کے برابر ہیں۔

اخبار کے مطابق، اسرائیلی افواج اس وقت مقبوضہ مغربی کنارے کے علاوہ غزہ، لبنان اور شام میں ’’تین سکیورٹی زونوں‘‘ کی شکل میں تعینات ہیں، جبکہ فوجی اہلکاروں کی سب سے بڑی تعداد مغربی کنارے میں متعین ہے۔

غزہ میں نام نہاد ’’ییلو لائن‘‘ کے ساتھ اسرائیلی فوج کی پانچ بٹالینتعینات ہیں۔ یہ لائن تقریباً غزہ کے 60 فیصد علاقے پر محیط ہے۔ علاوہ ازیں  سرحد پر مزید دو کمک بٹالین موجود ہیں۔

دریافت کیجیے
غزّہ میں زیتون کی خطرناک حد تک کم ہوتی پیداوار تصاویر کے آئینے میں
غاصب اسرائیلیوں نے فلسطینیوں کی زیتون کی فصل چرا لی
اسرائیل نے ڈرون حملے کر کے پانچ فلسطینیوں کو قتل کر دیا
نیتن یاہو  نے حقائق میں ہیرا پھیری کی ہے
حماس: اسرائیل کے دعوے بے بنیاد اور من گھڑت ہیں۔
صدر ایردوان، برسوں سے غزہ کی سب سے بلند آواز رہے ہیں
اسرائیل نے فوج کو غزہ پر حملوں کے لئے تیاری کا حکم دے دیا
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
"ہم فلسطین کے معاملے میں ناکام ہیں"، آئرش وزیر اعظم مارٹن کا اقوام متحدہ میں خطاب
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
اسرائیل نے ڈرون حملہ کر کے دو فلسطینیوں کو قتل اور 13 کو زخمی کر دیا
فلسطین: ہم برکس کے اعلامیے کا خیر مقدم کرتے ہیں
اسرائیل: مقبوضہ مشرقی القدس میں برطانوی قونصل خانہ بند کر دیا جائے
اسرائیلی فورسز کے چھاپے کے دوران ایک فلسطینی شخص کو قتل کر  دیا گیا
غزہ میں قاتل اسرائیل کے حملوں میں مزید 5 فلسطینی شہید
ترکیہ اور 7 دیگر ممالک کی طرف سے اسرائیل کے فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کی منصوبوں کی مذمت
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی