شام کے دارالحکومت دمشق میں تخریب کاری کے حملوں کی تیاری کرنے والی دہشت گرد تنظیم داعش سے وابستہ ایک سیل کو ختم کر دیا گیا اور داعش کے تین ارکان کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ اس سیل کی شناخت ترک قومی خفیہ سروس کی کارروا ئی کے نتیجے میں ہوئی ۔
قومی خفیہ سروس نے خفیہ معلومات، شامی داخلی سلامتی سروس کمانڈر شپ اور شامی خفیہ سروس کے ساتھ شیئر کیں۔ اس کے بعد شامی انٹیلی جنس نے شناخت شدہ سیل کے ارکان اور ان کی سرگرمیوں کی نگرانی شروع کر دی۔ سیل کے ارکان کے صحیح مقامات کا تعین مرحلہ وار ٹریکنگ کے ذریعے کیا گیا ۔
سیل پر چھاپے کے بعد داعش کے ارکان عمر ہاشم، محمد حمید اور حسین خلف کو حراست میں لے لیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی، بم ڈسپوزل کے ماہرین نے دھماکہ خیز مواد سے بھری گاڑی میں مداخلت کی، جسے دور سے سے دھماکہ کرنے کے لیے تیار کیا گیا تھااور اسے ایک اسٹریٹجک مقام پر رکھا گیا تھا۔ گاڑی سے وسیع پیمانے کی تباہ کاریاں کرسکنے والے C4 اور TNT کی بڑی مقداربرآمد ہوئی ہے۔
حراست میں لیے گئے تین افراد کو پوچھ گچھ کے لیے شامی جنرل انٹیلی جنس سروس/محکمہ انسدادِ دہشت گردی میں منتقل کر دیا گیا ہےتاکہ سیل اور اس کے ممکنہ ساتھیوں کی حمایت کرنے والوں کو بے نقاب کیا جا سکے۔
گزشتہ ہفتے جاری کردہ ایک آڈیو ریکارڈنگ میں تنظیم کے ارکان کو حملہ کرنے کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی تھی۔ دمشق میں اس آپریشن نے اس حملے کو روک دیا جس کی منصوبہ بندی تنظیم کی طرف سے دی گئی ہدایات پر کی گئی تھی۔










