دنیا
2 منٹ پڑھنے
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
جاپان کی سلامتی صورتحال پہلے کے مقابلے میں "زیادہ سخت" ہو چکی ہے لہٰذا ٹوکیو کو بعض موضوعات پر بحث کے ناقابلِ قبول ہونے کی سوچ سے نکلنا ہو گا: کوئزومی
جاپان: اب ہم ایٹمی موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتے"
شنجیرو کوئزومی نے کہا کہ ٹوکیو کو ایسی صورتحال کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے جس میں کچھ موضوعات پر بحث کو ناقابلِ قبول سمجھا جاتا ہے۔/ فوٹو: اے ایف پی آرکائیو

جاپان کے وزیرِ دفاع نے کہا ہے کہ یورپ کے بعض ممالک کی جانب سے جوہری دفاعی صلاحیت کو مضبوط بنانے کی کوششوں کے پیشِ نظر ٹوکیو کو بھی جوہری ہتھیاروں کے معاملے پر قومی سطح پر بحث کی ضرورت ہے۔

روزنامہ  کیوڈو نیوز کے مطابق، وزیرِ دفاع شنجیرو کوئزومی نے اتوار کے روز ایک آن لائن پروگرام میں کہا ہے کہ جاپان اب اس موضوع پر "بات کرنے سے گریز نہیں کر سکتا"۔

کوئزومی نے کہا  ہےکہ جاپان کی سلامتی کی صورتحال پہلے کے مقابلے میں "زیادہ سخت" ہو چکی ہے، اور ٹوکیو کو بعض موضوعات پر بحث کے ناقابلِ قبول ہونے کی سوچ سے نکلنا ہو گا۔

اپنے موقف کی حمایت میں انہوں نے فرانس اور فن لینڈ کی جانب سے اپنی جوہری دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے اختیار کردہ حکمتِ عملی کا بھی حوالہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ فن لینڈ کی پارلیمنٹ نے جون میں ایک ایسا بل منظور کیا تھا جس کے تحت ملک میں جوہری ہتھیار لانے کی اجازت دی جا سکتی ہے اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے مارچ میں اعلان کیا تھا کہ ان کا ملک اپنے جوہری وارہیڈز کی تعداد میں اضافہ کرے گا۔

غیر جوہری اصولوں پر بحث

امریکہ کے جوہری دفاعی تحفظ پر انحصار کرنے والا جاپان تین غیر جوہری اصولوں کا پابند ہے: اپنے ملک میں جوہری ہتھیار نہ رکھنا، نہ بنانا اور نہ ہی ان کے داخلے کی اجازت دینا۔

وزیراعظم سانیے تاکائیچی کی حکومت کو گزشتہ سال دسمبر میں اس وقت اپوزیشن جماعتوں اور بعض ممالک کی تنقید کا سامنا کرنا پڑا، جب جاپان کی سلامتی پالیسی سے متعلق ایک اعلیٰ عہدیدار نے کہا تھا کہ ملک کو جوہری ہتھیار رکھنے چاہییں۔

سابق وزیرِ دفاع اِتسونوری اونودیرا نے بھی گزشتہ سال کے آخر میں کہا تھا کہ جاپان کو اپنے غیر جوہری اصولوں پر دوبارہ بحث کرنی چاہیے۔

جاپان دنیا کا واحد ملک ہے جس پر جنگ کے دوران ایٹم بم گرائے گئے۔

امریکہ نے دوسری عالمی جنگ کے دوران جاپان کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے کے لیے 6 اگست 1945 کو ہیروشیما اور 9 اگست 1945 کو ناگاساکی پر ایٹم بم گرائے تھے۔

دریافت کیجیے
"جشنِ آزادی پاکستان" اسلام آباد میں آتشبازی کا شاندار مظاہرہ
امن کی تلاش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے:شہباز شریف
مصر میں ایک شاپنگ مال میں دھماکے میں 3 افراد ہلاک، 17 زخمی
ترکیہ۔پاکستان۔سعودی عرب دفاعی معاہدے کا مقصد مشترکہ صلاحیتوں میں اضافہ کرنا ہے: انقرہ
پولینڈ: 19 ملین افراد کی طبّی معلومات چوری ہو گئیں
ترکیہ: ،علی خان کوریش نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا آغاز
نارویجیئن وزیر  خارجہ کا دورہ پاکستان،اہم امور پر  تبادلہ خیال
ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کا اسرائیلی دعوی مشکوک ہے:سی آئی اے
فرانس: ایران مظاہرین کو سزائے موت دینا بند کرے
انڈونیشیا: مسافر بردار کشتی میں آگ لگ گئی، ایک مسافر ہلاک
کولومبیا:زلزلے سے ہلاک شدگان کی تعداد496ہو گئی،قومی سوگ کا اعلان
لبنان میں ہماری فوج تعینات رہے گی:یسرائیل کاتز
گولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے:ترکیہ
آسٹریلیا: بونڈی بیچ دعوے میں 800 سے زائد گواہوں کے بیانات جمع کر لئے گئے
زمبابوے میں مسافر فیری کے الٹنے سے کم  از کم 15 افراد ہلاک