ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
دہشت گردی سے پاک ترکیہ کی کل سے داغ بیل ڈال دی گئی ہے، صدر ایردوان
"آج ایک نیا دن ہے؛ تاریخ میں ایک نیا باب کھل گیا ہے،" یہ  عمل دہشت گردی کے "47 سالہ عذاب" کے خاتمے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم  ہے۔
دہشت گردی سے پاک ترکیہ کی کل سے داغ بیل ڈال دی گئی ہے، صدر ایردوان
President Erdogan has reiterated his government’s commitment to a terror-free Türkiye. (Photo: AA) / AA

صدر رجب طیب اردوان نے شمالی عراق میں پی کے کے دہشت گردوں کے علامتی طور پر ہتھیار ڈالنے کے بعد کہا ہے کہ  ترکیہ کی دہائیوں پر محیط دہشت گردی کے خلاف جنگ میں یہ لمحہ  ایک تاریخی موڑ  کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ "آج ایک نیا دن ہے؛ تاریخ میں ایک نیا باب کھل گیا ہے،" یہ  عمل دہشت گردی کے "47 سالہ عذاب" کے خاتمے کی جانب ایک فیصلہ کن قدم  ہے۔

جمعہ کے روز، شمالی عراق میں ایک غار کے دہانے پر PKK کے 30دہشت گردوں نے اپنے ہتھیار  نذرِ آتش کردیے۔ یہ  ایک  علامتی عمل تھا جسے انقرہ نے تنظیم کی تحلیل  کے آغاز کے طور پر تعبیر کیا۔

متعلقہTRT Global - PKK terror weapons go up in smoke

یہ پیش رفت،ترکیہ، امریکہ اور یورپی یونین کی طرف سے دہشت گرد تنظیم قرار  دی جانے والی PKK کی  ترکیہ کے خلاف طویل عرصے سے جاری دہشت گردی کی مہم میں سب سے اہم اشاروں میں سے ایک ہے۔

ایردوان نے کہا، "کل سے دہشت گردی کا عذاب ختم ہونے کے عمل میں داخل ہو چکا ہے۔ ترکیہ نے ایک دردناک اور آنسوؤں سے بھرے باب کو بند کرنا شروع کر دیا ہے۔ ایک عظیم اور طاقتور ترکیہ کے دروازے کھل چکے ہیں۔"

دہشت گردی سے پاک ترکیہ

اس لمحے کو قومی شفا اور اسٹریٹجک فتح کے طور پر پیش کرتے ہوئے صدرایردوان نے دہشت گردی سے پاک ترکیہ کے لیے اپنی حکومت کے عزم کا اعادہ کیا اور اتحاد اور قانونی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنے کا وعدہ کیا۔

انہوں نے اعلان کیا، "ہم اپنی پارلیمنٹ میں اس عمل کے قانونی تقاضوں پر بحث چھیڑنے  کے لیے ایک کمیشن قائم کریں گے۔ ہم  شانہ بشانہ کام کریں گے، اور تمام رکاوٹوں پر قابو پائیں گے۔"

ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ یہ نہ صرف حکومت کی بلکہ پوری ترک قوم کی فتح  ہے۔

انہوں نے کہا، "ترکیہ جیت گیا، میری قوم جیت گئی۔  یہ ترک، کرد، عرب ہمارے 86 ملین شہریوں کی فتح ہے۔"

انہوں نے مزید کہا، "ہم جو بھی کرتے ہیں، وہ ترکیہ کے لیے ، اپنی قوم کے لیے ، اپنی آزادی کے لیے اور اپنے درخشاں مستقبل کے لیے کرتے ہیں۔"

قومی خودمختاری پر اپنے مضبوط موقف کو اجاگر کرتے ہوئے، ایردوان نے اعلان کیا: "ہم کسی کو بھی ہمارے ملک کی عزت و وقار کو پاوں تلے روندھنے کی اجازت نہیں دیں گے ، ہم کبھی سر نہیں جھکائیں گے۔ ہم کسی ایسی پالیسی کو نہیں اپنائیں گے جو ہماری یکجہتی، وطن، قوم یا امن کو خطرے میں ڈالے۔"

ملکی مستقبل کے حوالے سے ایردوان نے اس لمحے کو ایک نئے دور کا آغاز قرار دیا۔ انہوں نے کہا، "آج، ایک عظیم اور طاقتور ترکیہ کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔ ہم اس سمجھ  بوجھ کے ساتھ دہشت گردی سے پاک ترکیہ منصوبے کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ یہ ترکیہ صدی ہے۔"

دریافت کیجیے
برازیل: فلاویو بولسونارو نےاپنی انتخابی مہم کا آغاز کردیا
ایران کے خلاف عسکری کاروائیوں میں تیزی  فی الوقت روک دی ہے:ٹرمپ
برلن میں گاڑی ہجوم پر چڑھ گئی،1 شخص ہلاک،متعدد زخمی
اسرائیل کی 763 نئے غیر قانونی آباد کاری کے یونٹوں کی منصوبہ بندی
یوکرین کا ایرانی جہاز پر حملہ،ایران کی جوابی کاروائی
نیتن یاہو کا مقبوضہ مغربی کنارے میں 'وسیع پیمانے پر' فوجی آپریشن کا حکم
ترکیہ کی طرف سے چار فلسطینیوں کی ہلاکت اور اسرائیل کی 'نسل کشی پالیسی' کی مذمت
شمال مغربی پاکستان میں پولیس چوکی پر دہشت گرد حملہ، 15 افراد لقمہ اجل
اقوام متحدہ کے سربراہ کا 17 سال بعد دورہ دمشق
ٹرمپ: اب ایران مذاکرات کے لیے زیادہ سنجیدگی سے کام لے رہا ہے
شمالی یوکرین میں سومی ڈاک خانے پر روسی ڈراون حملے میں 2 افراد ہلاک
فرانس اور ہسپانیہ میں بے قابو ہونے والی جنگلات کی آگ کے باعث دو لاکھ افراد فرار
ترکیہ: یوروفائٹر ٹائیفون کی تربیت کے لئے پہلا پائلٹ گروپ برطانیہ بھیجا جا رہا ہے
ایران، جنگ کی بھاری قیمت چُکا رہا ہے: روبیو
امریکی اسٹاک مرکیٹوں میں تناو، تیل 100 ڈالر سے اوپر چلا گیا