سعودی محکمہ شہری دفاع نے سوشل میڈیا سے جاری کردہ تحریری بیان میں دمام، الاحساء اور بقیق شہروں میں قومی ہنگامی صورتحال کے وارننگ نظام کے ذریعے خطرے سے متعلق الرٹ جاری کرنے کا اعلان کیا ہے۔
بیان میں الرٹ موصول ہونے والے شہریوں سے پرسکون رہنے اور سرکاری حکام کی ہدایات پر عمل کرنے کی اپیل کی گئی۔
شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ خطرہ ٹلنے تک خصوصاً کھڑکیوں سے دور کسی محفوظ کمرے میں منتقل ہو جائیں اور عمارت سے باہر نہ نکلیں۔ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ جو شہری باہر موجود ہیں، وہ قریب ترین عمارت میں داخل ہو جائیں یا کسی محفوظ رکاوٹ کی آڑ میں پناہ لیں۔
شہری دفاع کے ادارے نے کچھ دیر بعد جاری کردہ ایک اور بیان میں اعلان کیا کہ خطرہ ٹل گیا ہے۔
دوسری جانب یمن میں حکومتی فوج اور حوثیوں کے درمیان حالیہ عرصے میں جھڑپوں میں اضافہ ہوا ہے۔ ایران کے حمایت یافتہ حوثی، سعودی عرب کو، اپنے خلاف حملوں کا ذمہ دار ٹھہرا کر، بیلسٹک میزائلوں اور ڈرون طیاروں کے ذریعے نشانہ بنا رہے ہیں۔
واضح رہے کہ خطے میں فوجی تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے کی تنصیبات کو وقتاً فوقتاً یمن کی سرحد سے داغے جانے والے ڈرونوں اور بیلسٹک میزائلوں کے ذریعے نشانہ بنایا جاتا ہے۔
ستمبر 2014ء سے ایران کے حمایت یافتہ حوثیوں کی طرف سے دارالحکومت صنعاء اور بعض دیگر صوبوں کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد سے یمن میں خانہ جنگی جاری ہے ۔
دوسری طرف سعودی زیرِ قیادت عرب اتحاد مارچ 2015ء سے، بین الاقوامی برادری کی جانب سے، تسلیم شدہ یمنی حکومت کی حمایت کر رہا ہے۔























