ایک سینئر حماس حکام نے ہفتہ کو روئٹرز کو بتایا کہ گروپ کے عسکری ونگ کے سربراہ ہلاک ہو گئے ہیں، یہ اعلان اسرائیل کے اعلان کہ اس نے انہیں نشانہ بنا کر فضائی حملے کیے ہیں کے ایک دن بعد سامنے آیا ہے۔
اس سے قبل، غزہ شہر میں عینی شاہدین نے بتایا کہ مساجد نے عزّ الدین الحداد کی شہادت کا اعلان کیا تھا۔ وہ اکتوبر میں طے پانے والے اور امریکہ کے حمایت یافتہ جنگ بندی معاہدے کے بعد اسرائیل کی جانب سے ہلاک کیے جانے والے سب سے سینئر حماس عہدے دار ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی گروپ حماس نے الحداد کی موت کی عوامی سطح پر تصدیق نہیں کی ہے۔
نیتن یاہو نے جمعہ کو اپنے وزیر دفاع کے ساتھ مشترکہ بیان میں کہا کہ الحداد کو نشانہ بنایا گیا تھا، تاہم انہوں نے واضح نہیں کیا کہ وہ ہلاک ہوئے یا نہیں۔
نیتن یاہو اور وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے کہا کہ الحداد اکتوبر سات، 2023 کو حماس کی طرف سے کیے گئے حملوں کا منصوبہ ساز تھا ، جو اسرائیل کے جاری حملوں کا سبب بنے۔
ان کا کہنا تھا کہ الحداد، جو مئی 2025 میں محمد سنوار کی اسرائیل کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد غزہ میں گروپ کے فوجی سربراہ بنے تھےہزاروں اسرائیلی شہریوںاور فوجیوں کے قتل، اغوا اور پہنچائے گئے نقصان کا ذمہ دارتھا۔
اسرائیل اور حماس غیر مستقیم مذاکرات میں الجھے ہوئے ہیں تاکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ کے بعد غزہ کے منصوبے کو آگے بڑھایا جا سکے، جس کا مقصد دو سال سے زائد لڑائی کو ختم کرنا ہے۔
غزہ کے طبی عملے نے جمعہ کو کہا کہ کم از کم سات افراد، جن میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں، ایک فلیٹ اور ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے فضائی حملوں میں ہلاک ہو گئے اور کم از کم 50 زخمی ہوئے۔ یہ واضح نہیں کہ الحداد بھی ان ہلاک شدگان میں شامل تھے یا نہیں۔
اسرائیل نے ان ہفتوں میں غزہ میں اپنے حملوں میں شدت بڑھا دی ہے جب اس نے ایران میں امریکہ کے ساتھ مشترکہ بمباری روک دی تھی، اور اب اس کا نشانہ دوبارہ اس تباہ شدہ فلسطینی علاقے کو بنایا جا رہا ہے جہاں فوج کہتی ہے کہ حماس کے جنگجو اپنی گرفت مضبوط کر رہے ہیں۔
















