چین کے صدر شی جن پنگ دو روزہ دورے پر مصر پہنچ گئے ہیں۔ یہ نادر دورہ کئی ماہ سے جاری مشرقِ وسطیٰ جنگ کے اثرات کے تناظر میں اور بیجنگ اور قاہرہ کےاپنے اقتصادی مفادات کو محفوظ اور باہمی روابط کو مضبوط بنانے کی خواہش کے محّرک کے ساتھ طے پا رہا ہے۔
منگل کے روز قاہرہ پہنچنے پر مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی اور ان کی اہلیہ نے ہوائی اڈے پر شی جن پنگ اور ان کی اہلیہ پینگ لی یوان کا مصری لوک رقص مظاہرے کے ساتھ استقبال کیا۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ اپنے مالی و اقتصادی روابط کے باعث چین اور مصر کو ممکنہ امریکی پابندیوں کا سامنا ہے۔ واشنگٹن نے تہران کی حمایت کرنے والے ممالک اور اداروں کے خلاف اقدامات میں توسیع کی دھمکی دی ہے، جس سے چینی اور مصری بینک متاثر ہو سکتے ہیں۔
ایرانی تیل کے بڑے خریداروں میں شامل ملک 'چین' اس تنازعے میں خود کو ایک غیر جانب دار فریق کے طور پر پیش کرتا رہا ہے اور متعدد مرتبہ مستقل جنگ بندی کا مطالبہ کر چکا ہے۔ دوسری جانب اس علاقائی تنازعے کےاپنی سلامتی اور تجارتی مفادات کے لیے خطرہ بننے کی وجہ سے مصر نے بھی فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کی اپیل کی ہے۔
بیجنگ علاقائی اثر و رسوخ بڑھانا چاہتا ہے
مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق، شی جن پنگ آج بروز بدھ صدر السیسی سے ملاقات کریں گے۔ مذاکرات میں غزہ جنگ، ایران کے ساتھ تعلقات اور بحیرۂ احمر اور آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حمل کے معاملات پر بات چیت متوقع ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل اور فلسطینی گروہوں کے درمیان ثالثی میں مصر کا کردار، نیز واشنگٹن اور مشرقِ وسطیٰ کی دیگر طاقتوں کے ساتھ اس کے تعلقات، بیجنگ کے لیے قاہرہ کو ایک اہم علاقائی شراکت دار بنا رہے ہیں۔
مصر کی سوئز یونیورسٹی کے شعبہ سیاسیات کے پروفیسر جمال سلامہ نے کہا ہے کہ ’’چین، قاہرہ کو ایک اسٹریٹجک طاقت کے مرکز کے طور پر دیکھتا ہے۔‘‘
سلامہ کے مطابق واشنگٹن اور علاقائی فریقوں کے ساتھ مصر کے تعلقات چین کو اس خطے میں ’’سیاسی رسائی اور سفارتی اثر و رسوخ‘‘ فراہم کرتے ہیں، جہاں بیجنگ اپنا کردار مزید بڑھانا چاہتا ہے۔
چین اور مصر دونوں دو ریاستی حل کے تحت ایک آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کرتے ہیں۔
شی جن پنگ نے منگل کے روز مصری ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں کہا ہے کہ وہ صدر السیسی کے ساتھ ’’اپنی دوستی کو تازہ کرنے‘‘ اور دونوں ممالک کی جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک نئے روڈ میپ کی تشکیل پر ان کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔
تجارت اور سرمایہ کاری دورے کا مرکز
چین اور مصر کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 70ویں سالگرہ کے موقع پر ہونے والا یہ دورہ زمانی اعتبار سے ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات مسلسل وسعت اختیار کر رہے ہیں۔
چین محکمہ کسٹم کے اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے سات ماہ میں مصر کے ساتھ چین کا تجارتی سرپلس 12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا۔
مصری ذرائع ابلاغ کے مطابق دونوں ممالک کی جانب سے مصنوعی ذہانت، نقل و حمل، توانائی اور سوئز کینال اقتصادی زون میں سرمایہ کاری سے متعلق معاہدوں پر دستخط متوقع ہیں۔
بیجنگ نے قاہرہ کے ساتھ اپنے فوجی تعلقات بھی مضبوط کیے ہیں۔ چین اور مصر کی فضائی افواج نے اگست میں ایک مشترکہ فوجی مشق کی، جس میں چین کے J-16 جنگی طیاروں نے بھی حصہ لیا۔
مصر کے لیے چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے سے ایک طرف اضافی سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی حاصل ہو سکتی ہے اور دوسری طرف قاہرہ کو واشنگٹن کے ساتھ اپنے دیرینہ تعلقات برقرار رکھنے کی گنجائش بھی مل سکتی ہے۔
سلامہ نے کہا ہے کہ ’’مصر جس چیز کی تلاش میں ہے وہ اسٹریٹجک خودمختاری ہے۔ یعنی واشنگٹن کے ساتھ تعلقات توڑے اور مکمل طور پر بیجنگ کے محور میں شامل ہوئے بغیر اپنے قومی مفادات کے حصول کے لیے کافی گنجائش پیدا کرنا۔‘‘
یہ دورے کی زمانی خصوصیات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ بیجنگ خطے میں امریکہ کے اتحادی ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ، یہ شی جن پنگ اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان رواں ماہ کے آخر میں متوقع ملاقات سے قبل ہو رہا ہے۔

















