ایک فوجی ذرائع کے مطابق ، حکومت کے کم از کم 58 یمنی فوجی حوثی میزائل اور ڈرون حملوں میں ہلاک ہو گئے ہیں، یہ حملہ ملک کی خانہ جنگی میں پچھلے چار سالوں کے دوران انتہائی ہلاکت خیز حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع کے مطابق جمعرات کو یہ حملے معارب اور حضرموت صوبوں میں فوجی مقامات کو نشانہ بنا کر کیے گئے،جس دوران درجنوں فوجی زخمی بھی ہوئے۔
ایک فوجی عہدیدار نے ان حملوں کو 2022 کے بعد حکومتی افواج پر کیے گئے سب سے ہلاکت خیز حملوں کے طور پر بیان کیا۔
حوثی فوجی ترجمان یحییٰ سریع نے کہا کہ یہ حملے ہماری حکومت کے دفاتر کو نشانہ بنانے کے ردعمل میں کیے گئے، جنہیں انہوں نے سعودی حمایت یافتہ عسکری کارروائی قرار دیا۔
یمنی وزارت دفاع نے کہا کہ مسلح افواج "مناسب جگہ اور وقت" پر جواب دیں گی۔
حملے سعودی عرب تک پھیل گئے
شدت میں اضافہ جمعرات کو سرحد پار تک پہنچ گیا، اور سعودی قیادت والی اتحاد کے مطابق حوثی حملوں میں سعودی عرب کے جنوبی نجران علاقے میں 11 شہری زخمی ہوئے۔
اتحاد کے ترجمان میجر جنرل ترکی المالکی نے کہا کہ زخمیوں میں سات سعودی، دو مصری، ایک یمنی اور ایک پاکستانی شامل ہیں۔
انہوں نے حوثیوں پر شہری علاقوں پر اندھا دھند حملے کرنے کا الزام لگایا اور کہا کہ اتحاد کی افواج شہریوں کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھیں گی۔
علاقائی کشیدگی میں اضافہ
یہ حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب یمن بتدریج امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ میں زیادہ شامل ہوتا جا رہا ہے، اور ایران کے حمایتی حوثی حکومت کی افواج اور پڑوسی سعودی عرب دونوں پر حملے تیز کر رہے ہیں۔
حوثیوں نے گزشتہ مہینے سے حملے تیز کر دیے ہیں، جب انہوں نے سعودی بندرگاہوں پر بحری محاصرہ کا اعلان کیا اور سعودی بحری جہاز رانی اور فوجی اہداف پر حملے کیے۔
سعودی عرب نے 2015 سے حوثیوں کے خلاف یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں ایک فوجی اتحاد کی قیادت کی ہے۔
اگرچہ 2022 میں اقوامِ متحدہ کے ثالثی کردہ جنگ بندی کے بعد لڑائی بڑی حد تک کم ہو گئی تھی، حالیہ جھڑپوں نے مشرقِ وسطیٰ کے طویل المعیاد تنازعات میں سے ایک کو دوبارہ بھڑکا دیا ہے۔














