دنیا
3 منٹ پڑھنے
ونیزویلا میں ہولناک زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز کر گئی
اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کم از کم 17 ممالک کی بین الاقوامی  ریسکیو ٹیمیں وینیزویلا بھیجی جا رہی ہیں تاکہ تباہ کن زلزلوں کے ردِ عمل میں امداد فراہم کی جا سکے
ونیزویلا میں ہولناک زلزلوں کے بعد ہلاکتوں کی تعداد 900 سے تجاوز  کر گئی
وینزویلا میں امدادی کارروائیوں میں بین الاقوامی ٹیمیں مدد کر رہی ہیں۔ / AP

وینیزویلا کی نیشنل اسمبلی کے سربراہ ہورخے روڈریگیز نے کہا کہ جمعہ تک ہولناک  زلزلوں میں جانی نقصان  920 تک پہنچ گیا  ہے۔

کئی گھنٹے پہلے عبوری صدر ڈیلسی روڈریگیز نے کہا تھا کہ باضابطہ ہلاکتوں کی تعداد 589 ہو گئی ہے، جو پہلے سے دگنی سے بھی زیادہ ہے، ریسکیو ٹیمیں ملبے میں زندہ بچ جانے والوں کی تلاش جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بدھ کو آنے والے 7.5 اور 7.2 شدت کے زلزلوں کے بعد باضابطہ ہلاکتوں کی ابتدائی تعداد پہلے 235 بتائی گئی تھی۔

اقوام متحدہ نے کہا ہے کہ کم از کم 17 ممالک کی بین الاقوامی  ریسکیو ٹیمیں وینیزویلا بھیجی جا رہی ہیں تاکہ تباہ کن زلزلوں کے ردِ عمل میں امداد فراہم کی جا سکے۔

اقوامِ متحدہ کے ہنگامی انسانی معاونت ادارے اوچا نے کہا کہ ان ٹیموں کو متاثرہ علاقوں تک پہنچانا اب "اولین ترجیح" ہے۔

ترجمان ینس لائرکے نے جنیوا میں صحافیوں سے کہا"زلزلے کسی بھی ملک کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن آفات میں سے ایک ہیں"یہ واقعی خوفناک ہے۔ لیکن جو کچھ ہم ابھی دیکھ رہے ہیں وہ ایک بین الاقوامی باہمی اتحاد  کا بہترین اظہار بھی ہے۔ پورا انسانی امدادی نظام بہت تیزی سے اور بڑے پیمانے پر حرکت میں آیا ہے۔

بین الاقوامی ریسکیو ٹیموں کی تعیناتی

لائرکے نے کہا کہ کل 25 ٹیمیں — جن میں 17 قومی شہری ریسکیو یونٹس کے ساتھ ایمرجنسی طبی ردِ عمل ٹیمیں بھی شامل ہیں — تعینات کی جا رہی ہیں، جو تقريباً 1,000 ریسکیو اہلکار لائیں گی، اور مزید ٹیموں کی تعیناتی متوقع ہے۔

انہوں نے کہا کہ چلی، کولمبیا، الاسالواڈر، اٹلی، میکسیکو، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کی ٹیمیں پہلے ہی وینیزویلا میں موجود ہیں۔

مزید براں ترکیہ، برطانیہ، جمہوریہ چیک، ایکواڈور، فرانس، جرمنی، اردن، نیدرلینڈز، قطر اورا سپین سمیت دیگر ممالک کی ٹیمیں بھی متحرک کی جا رہی ہیں۔

بچاؤ اب بھی اولین ترجیح

عالمی صحت تنظیم نے کہا کہ فوری ضروریات میں بڑے پیمانے پر حادثات کا انتظام اور زخموں کا علاج شامل ہیں، خاص طور پر ان علاقوں میں جہاں عمارتیں منہدم ہوئی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی صحت ایجنسی کے امریکی خطے کی برانچ کے ایمرجنسی ڈائریکٹر سیرو اوگارٹے نے کہا ہے کہ

اہم ترین ترجیح یہ ہے کہ جتنا زیادہ ممکن ہو لوگوں کو بچایا جائے اور زخمیوں کو فوری طور پر زندگی بچانے والی طبی خدمات فراہم کی جائیں۔

انہوں نے واشنگٹن سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "ابتدائی  72 گھنٹے جانیں بچانے کے لیے انتہائی اہم ہیں، اور کوششیں متاثرین کو بروقت طبی دیکھ بھال فراہم کرنے پر بہت زیادہ مرکوز ہیں۔"

“اگلے چند گھنٹوں اور دنوں میں اموات اور زخمیوں کی تعداد میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔"

انہوں نے کہا کہ زلزلوں نے ایسے صحت کے نظام کو نشانہ بنایا ہے جو پہلے ہی کمزور تھا، تاہم خطے کے پندرہ سے زائد صحت کے وزارے مدد کی پیشکش کر چکے ہیں اور ٹیمیں تعینات کرنے کے لیے تیار ہیں۔

اوگارٹے نے کہا کہ پی اے ایچ او کے ماہرین متاثرہ صحت کے اداروں کا نقشہ تیار کرنے پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ماڈیفائیڈ مرکالی شدت پیمانے پر چھ اور سات سے زیادہ کے جھٹکے والی شدت کا سامنا کرنے والے 90 سے زیادہ ہسپتالوں کا تعین ہوا ہے۔

انہوں نے کہا"ہم ان اداروں کو ترجیح دے رہے ہیں، جن میں ڈھانچے کی حفاظت کا جائزہ، ایمرجنسی ڈیپارٹمنٹس کی گنجائش، آپریشن تھیٹرز، اندرونی بستروں کی دستیابی، خون کی فراہمی اور آکسیجن شامل ہیں۔"

 

دریافت کیجیے
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا