سربراہی اجلاس کے مرکزی ایجنڈے میں دفاعی صنعت میں تعاون، یورپ-امریکہ تعلقات میں تازہ پیش رفت، اتحاد کا نیا سیکیورٹی وژن اور علاقائی بحران شامل ہیں۔
یہ سمٹ بین الاقوامی برادری کی گہری نظر میں ہے؛ عالمی میڈیا میں اس کی نمایاں کوریج کے ساتھ ساتھ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز پر بھی شدید دلچسپی دیکھی جا رہی ہے۔
ترکیہ کا نیٹو میں نمایاں اسٹریٹیجک مقام ۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر #NATOsummit ہیش ٹیگ نہ صرف ترکیہ میں بلکہ دنیا بھر میں بھی سب سے زیادہ زیرِ بحث موضوعات میں سرفہرست رہا۔
سربراہ اجلاس سے متعلق شیئر کردہ مواد میں ترکیہ کے نیٹو میں اسٹریٹیجک مقام، علاقائی بحرانوں میں اس کے ادا کردہ سفارتی کردار اور دفاعی صنعت میں اس کی ترقی کو اجاگر کیا جا رہا ہے۔
کئی پوسٹس میں کہا گیا ہے کہ حالیہ سالوں میں دفاعی صنعت میں ملکیّت اور خود کفالت کی شرح بڑھانے والے ترکیہ نے نیٹو کے سب سے مضبوط عسکری صلاحیت رکھنے والے ممالک میں سے ایک کے طور پر اتحاد کی مزاحمتی طاقت میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
سوشل میڈیا صارفین اور بین الاقوامی مبصرین کی شیئرنگ میں ترکیہ کی سفارتی کوششوں اور بحران زدہ علاقوں میں کی جانے والی مصالحتی سرگرمیوں پر توجہ دی جاتی ہے، اور بعض تبصروں میں انقرہ کو 'امن کی کنجی' کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
نیٹو لیڈرز سمٹ کے دوران ہونے والے رہنما سیشنز اور دو طرفہ ملاقاتوں کے بعد سمٹ کے نتائج پر مشتمل اعلامیہ عوام کے ساتھ شیئر کیے جانے کی توقع ہے۔
















