ذرائع کے مطابق ترکیہ کے قومی انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن نے استنبول میں حماس کے سیاسی بیورو کے چیئرمین خلیل الحیہ اور ان کے ہمراہی وفد سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے غزہ امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کو آگے بڑھانے کی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا۔
ذرائع نے انادولو ایجنسی کو بتایا کہ اس ملاقات کا مرکزی موضوع امن منصوبے کے دوسرے مرحلے میں منتقلی کے لیے تیار کردہ روڈ میپ تھا، جس میں شرکاء نے اس تجویز پر حماس کے مثبت ردِعمل پر زور دیا۔
دونوں فریقین نے اس بات پر تشویش ظاہر کی کہ اسرائیل نے روڈ میپ کے جواب میں اقدامات کرنے کے بجائے غزہ میں اپنی عسکری جارحیت میں شدت پیدا کی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ بین الاقوامی برادری کو جلد از جلد اسرائیلی جارحیت روکنے کے لیے اقدام کرنا چاہیے۔
بین الاقوامی تحریک
شرکاء نے قابض مغربی کنارے اور قابض مشرقی یروشلم میں فلسطینی حقوق کی خلاف ورزیوں پر بھی گفتگو کی۔
انہوں نے قابض علاقوں میں جاری غیرقانونی اسرائیلی آبادکاری اور غیرقانونی آبادکاروں کی جانب سے تشدد میں تیزی کا ذکر کیا۔
ملاقات کے دوران غزہ کی انسانی صورتحال پر بھی بات ہوئی، اور ذرائع کے مطابق ترکیہ نے سیاسی اقدامات اور انسانی امداد بہتر بنانے کے منصوبوں کے ذریعے غزہ کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا ۔
اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ ترکیہ، بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے کی کوششیں کر رہا ہے تاکہ غزہ میں اسرائیلی قتلِ عام اورقابض مغربی کنارے اور قابض مشرقی یروشلم میں فلسطینی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکا جائے، اور غزہ میں انسانی امداد میں اضافہ کیا جائے۔
شرکاء نے غزہ میں امن کو یقینی بنانے میں ترکیہ، قطر اور مصر کی مشترکہ کوششوں کی تائید کی۔
حماس کے وفد نے غزہ میں امن کے حصول میں تعاون کے لیے انقرہ کی کوششوں پر ترک صدر رجب طیب اردوان کا بھی شکریہ ادا کیا۔

















