شمالی کوریا نے اپنے آئین سے جنوبی کوریا کے ساتھ اتحاد سے متعلقہ تمام الفاظ اور جملے حذف کر دیئے ہیں۔
بدھ کے روز 'اے ایف پی' کو موصول ہونے والی ایک دستاویز کے مطابق شمالی کوریا نے اپنے آئین سے وہ تمام الفاظ اور جملے خارج کر دیئے ہیں جن میں جنوبی کوریا کے ساتھ اتحاد کا ذکر تھا۔ اس اقدام کو پیانگ یانگ کی جانب سے سیول کے خلاف زیادہ سخت اور مخاصمانہ پالیسی اپنانے کی علامت قرار دیا جا رہا ہے۔
جنوبی کوریا کی وزارتِ اتحاد میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں دِکھائے گئے شمالی کوریا آئین کے تازہ ترین ورژن میں "شمالی کوریا کا مقصد وطن کے اتحاد کا حصول ہے" کی شق شامل نہیں تھی۔
یہ پیش رفت کِم جونگ اُن کی مارچ میں کی گئی ایک تقریر کے بعد سامنے آئی ہے۔ تقریر میں انہوں نے سیول کو "سب سے بڑی دشمن ریاست" قرار دیا تھا۔
دستاویز کے مطابق مارچ میں منظور کئے گئے نظرثانی شدہ آئین میں شمالی کوریا کی سرحدوں کی وضاحت پر مبنی ایک نئی شق بھی شامل کی گئی ہے ۔
اس شق میں جنوبی کوریا کے سرکاری نام کا استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ملک کی سرحدیں شمال میں چین اور روس سے اور جنوب میں "جمہوریہ کوریا" سے ملتی ہیں۔
آئین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ شمالی کوریا اپنی سرزمین کی کسی بھی خلاف ورزی کو ہرگز برداشت نہیں کرے گا۔
جنوبی کوریا کے امن پسند صدر لی جائے۔مونگ نے شمالی کوریا کے ساتھ بغیر کسی پیشگی شرط کے مذاکرات کی اپیل کی اور کہا ہے کہ دونوں ممالک "امن کے پھول کھلانے" کے پابند ہیں۔
تاہم شمالی کوریا نے لی انتظامیہ کی ان کوششوں کا کوئی جواب نہیں دیا اور بارہا جنوب کو اپنا "سب سے بڑا دشمن" قرار دیا ہے۔
کِم جونگ اُن نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو مزید مضبوط بنانے کا عزم ظاہر کیا ہے۔پیانگ یانگ نے اپریل میں چار میزائل تجربات کئے جو دو سال سے زائد عرصے میں ایک ہی مہینے میں تجربہ کئے گئے میزائلوں کی بڑی ترین تعداد ہے۔
پیانگ یانگ نے روس کے ساتھ بھی تعلقات کو مضبوط کیا ہے اور یوکرین جنگ میں فوجی نفری اور توپ خانے کے ساتھ روس کی مدد کی ہے۔






