گزشتہ روز اسرائیلی جنگی طیاروں نے جنوبی بیروت پر تازہ فضائی حملے کیے۔
واضح رہے کہ حزبِ اللہ کے ساتھ جنگ شدت اختیار کر گئی ہے ۔
بعض رپورٹرز کے مطابق، جنگی طیاروں نے ایک گھنٹے کے اندر کم از کم تین حملے کیے، جن میں بیروت کے جنوبی مضافات حارت ہریک، حدت اور لِقی کے علاقوں میں عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا۔
تایا گیا ہے کہ دھواں محلے کے اوپر اٹھتا رہا جبکہ اسرائیلی طیارے فضا میں گشت کرتے رہے۔ ابتدائی طور پر جانی اموات یا زخمیوں کی درست تعداد فوری طور پر دستیاب نہیں ہوسکی ۔
حملوں سے قبل اسرائیلی فوجی ترجمان آویچائے ادرائی نے ایکس پر انخلا کی وارننگ جاری کیں، اور رہائشیوں سے کہا کہ وہ اُن علاقوں کو خالی کریں جنہیں اسرائیل نے حزبِ اللہ کے بنیادی ڈھانچے کے قریب قرار دیا تھا۔
فوج نے مزید حملوں سے پہلے جنوبی لبنان کے شہریوں کو لیطانی ندی کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم بھی دیا۔
یہ کشیدگی اسرائیل اور لبنانی گروپ حزبِ اللہ کے درمیان کئی روز سے جاری بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد سامنے آئی ہے۔
بدھ کو حزبِ اللہ نے کہا کہ اس نے وسطی اور شمالی اسرائیل میں فوجی مقامات پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کیے۔
گروپ نے کہا کہ اس نے صفد کے قریب اسرائیل کی شمالی کمان کے ہیڈکوارٹر دادو اڈے کو میزائلوں سے نشانہ بنایا اور صفد کے مشرق میں واقع گیوا ڈرون کنٹرول اڈے پر ایک پروجیکٹائل سے حملہ کیا۔ اس نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ڈرونز نے وسطی اسرائیل میں اسرائیل ایروسپیس انڈسٹریز کے ہیڈکوارٹر کو نشانہ بنایا اور متولا کے علاقے میں اسرائیلی افواج پر راکٹ فائر کیے گئے۔
حزبِ اللہ نے کہا کہ یہ حملے اسرائیلی جارحیت کے جواب میں کیے گئے۔
اس ہفتے کے آغاز میں یہ تازہ تشدد اسی وقت پھوٹا جب حزبِ اللہ نے شمالی اسرائیل پر راکٹ اور ڈرون داغے اور اسرائیلی فضائی حملوں اور ایران پر ہونے والے امریکی-اسرائیلی حملوں میں علی خامنہ ای کی ہلاکت کا حوالہ دیا۔
اسرائیل نے بھی فضائی حملوں کے ساتھ جواب دیا جن کے بارے میں لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ کم از کم 40 افراد ہلاک اور تقریباً 250 زخمی ہوئے۔
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان میں زمینی حملہ بھی شروع کیا۔
اسرائیل نے ایران اور حزبِ اللہ کی طرف سے داغے گئے یا اس کی فضائی دفاع نے روکے گئے میزائلوں سے ہونے والے جانی نقصان کی رپورٹنگ پر سخت سنسرشپ نافذ کر رکھی ہے، اور متعلقہ فوٹیج کی اشاعت پر پابندی عائد کر دی ہے۔








