ترکیہ
3 منٹ پڑھنے
ترکیہ: موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا
ترکیہ خفیہ ایجنسی 'MIT' نے اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد کے لئے جاسوسی کے الزام میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا
ترکیہ: موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کر لیا گیا
ایم آئی ٹی، استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفتر اور استنبول پولیس کی قیادت میں ایک مشترکہ کارروائی میں سیکیورٹی فورسز نے موساد کے کارندوں کو گرفتار کر لیا۔ / AA Archive
10 گھنٹے قبل

ترکیہ قومی خفیہ ایجنسی 'MIT' نے اسرائیل خفیہ ایجنسی موساد کے لئے جاسوسی کے الزام میں دو مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا ہے۔

ترک سکیورٹی حکام کی فراہم کردہ معلومات کے مطابق ترکیہ خفیہ ایجنسی 'MIT' نے "MONITUM" کوڈ نام والے ایک پیچیدہ تفتیشی آپریشن  میں موساد کے 2 جاسوسوں کو گرفتار کیا ہے۔

سکیورٹی حکام کے مطابق 'MIT'نے   استنبول کے چیف اٹارنی دفتر  اور استنبول پولیس  ڈائریکٹریٹ کے شعبہ انسداد دہشت کے ساتھ  کئے گئے مشترکہ آپریشن میں مہمت بوداک دریا اور ویسل کریم اولو کو حراست میں لیا گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ملزم 'دریا  'ایک کان کنی انجینئر ہے۔ اس نے 2005 میں اپنی  کمپنی بنا کر ضلع مرسین کے علاقے  سیلیفکے میں سنگ مرمر کی کان کھولی۔ اس کے بعد ملزم تیزی سے  بین الاقوامی تجارت کرنے لگا۔ کمپنی کے متعدد ممالک میں  بڑھتے ہوئے کاروباری روابط نے  اسرائیلی انٹیلی جنس کی توجہ اپنی طرف کھینچی۔

ذرائع نے کہا ہےکہ ستمبر 2012 میں ایک "علی احمد یاسین"  کوڈ نیم والے ایک  شخص ایک غیر فعال  اسرائیلی کمپنی کے نمائندے کی حیثیت سے  دریا کے دفتر  میں آیا اور تعاون کی پیشکش کی۔ جنوری 2013 تک دریا کو یورپ میں ایک ملاقات کے دوران موساد کے ایجنٹوں سے متعارف کروایا گیا۔

تیسرے ممالک میں ملاقاتیں

ان ملاقاتوں کے دوران، موساد کے "لیوس" کوڈ نیم والے جاسوس نے فلسطینی نژاد ترک شہری ویسل کریم اوغلو کی بھرتی کی درخواست کی اور  دونوں مردوں کو ہدایت کی کہ وہ تمام سرگرمیوں اور رابطوں کی مشترکہ  رپورٹ دیا کریں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق دریا نے یورپی ممالک میں موساد کے متعدد جاسوسوں  کے ساتھ ملاقاتیں کیں جو"لیوس"، "جیسس/ہوسے"، "ڈاکٹر روبرٹو/ریکارڈو"، "ڈین/ڈینِس"، "مارک"، "ایلی/ایمی" اور "مائیکل"  جیسے مختلف کوڈ نام استعمال کر رہے تھے ۔

تحقیقات میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لئے گئے یہ دونوں جاسوس  بنیادی طور پر معاشرتی و تجارتی روابط کے ذریعے معلومات جمع کرتے تھے۔ خاص طور پر خطے میں اسرائیلی پالیسیوں پر تنقید کرنے والے  فلسطینیوں، افراد، مقامات اور نیٹ ورک کی تفصیلات موساد  کو پہنچاتے تھے۔

دریا پر غزہ میں داخلے کی اجازت حاصل کرنے کی کوشش کرنے، وہاں  کےگوداموں کی صورت حال کا جائزہ لینےاور ان کی تصاویر موساد کو بھیجنے کا بھی الزام ہے۔

ڈرون  اسپیئر پارٹ  کاروبار شروع کرنے کی کوششیں

فائل میں مزیدکہا گیا  ہے کہ 2016 میں کریم اوغلو نے ڈرون اسپیئر پارٹ کاروبار میں داخلے کی تجویز پیش کی، یہ خیال اسرائیلی انٹیلی جنس کو منتقل کیا گیا اور ابتدائی نمونے موساد کی جانب سے فراہم کیے گئے۔

حکام نے کہا ہے کہ محمد زواری کے ساتھ ڈرون طیاروں کی فروخت کے مذاکرات کئے گئے اور دسمبر 2016 میں انہیں تیونس میں قتل کر دیا گیا اور یہ آپریشن اسرائیل نے کیا تھا۔

آپریشنل سیکورٹی کے دائرہ کار میں دعوی کیا جا رہا ہے کہ  اسرائیل خفیہ ایجنسی نے دریا کو پاس ورڈ والے مواصلاتی سسٹم فراہم کئے   اور اس کے دو پولی گراف ٹیسٹ لئے گئے ۔   ایک ٹیسٹ  2016 میں ایک ایشیائی ملک میں اور دوسرا اگست 2024 میں ایک یورپی ہوٹل میں لیا گیا۔ دونوں ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد دریا کو اعلیٰ آپریشنل سطح پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی گئی۔

تفتیشی افسران کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ترکیہ اور دیگر ممالک سے حاصل کردہ سم کارڈوں، موڈموں اور روٹروں کے سیریل نمبر، MAC ایڈریس اور تکنیکی خصائص کے حامل ڈیٹا  کی تصویریں بنائیں اور انہیں  آگے پہنچایا۔

دریافت کیجیے
بلوچستان میں دہشت گرد حملوں کا سلسلہ جاری، ہلاکتوں کی تعداد 250 تک پہنچ گئی
مہاجر کشتی یونانی ساحلی گارڈ کے جہاز سے ٹکرا گئی ، کم از کم 14 افراد ہلاک
شام کی علاقائی سالمیت اور خود مختاری امن کی ضمانت ہے:ترکیہ
بھارت میں ’نیپا‘ وائرس کا پھیلاؤ
انڈونیشیا: سیمرو آتش فشاں پہاڑ میں سات دھماکے
جاوا میں لینڈ سلائیڈ کی وجہ سے ہلاکتوں کی تعداد 85 تک پہنچ گئی
سعودی-ترک سرمایہ کاری فورم شروع ہو گیا
یوکرین، روس اور امریکی نمائندے ابو ظہبی میں امن مذاکرات میں شرکت
13 سالہ آسٹریلوی بچے نے اپنے خاندان کو بچانے کے لیے گھنٹوں تک تیراکی کی
شام: وائے پی جی نے 23 شامی شہریوں کو حراست میں لے لیا
متحدہ عرب امارات: ہم جنگ کے حق میں نہیں، امریکہ کے ساتھ جوہری مذاکرات کریں
نامعلوم ڈرون اسلحہ گودام کے قریب تباہ،پولش فوج چوکناہو گئی
فلسطینیوں کا دوسرا گروپ رفح بارڈر کے راستے غزہ واپس لوٹ آیا
شام: داخلہ سلامتی دستے قامشلی میں داخل ہو جائیں گے
جرمنی: یورپ کو زیادہ خود مختار اور باہم متحدہ ہو جانا چاہیئے