کروشیا کے صدر زوران میلانووچ نے کہا ہے کہ اسرائیل کی بین الاقوامی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی وجہ سے کروشیا مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان تمام تعاون معطل کر دیا گیا ہے۔
پیر کو سوشل میڈیا سے جاری کردہ بیان میں میلانووچ نے کہا ہے کہ "اسرائیلی فوج کے ناقابلِ قبول طرزِ عمل اور بین الاقوامی انسانی قانون کے تمام اصولوں کی بے مثال خلاف ورزیوں کے باعث ہم نے پہلے ہی گذشتہ سال ماہِ مئی میں کروشیا مسلح افواج اور اسرائیلی فوج کے درمیان تمام تعاون کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔ یہ حکم پوری کروشیائی فوج کا احاطہ کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا ہے کہ"میں نے کروشیا حکومت سے بھی اسرائیل کے ساتھ ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی تجارت کو بند کرنے کی اپیل کی ہے"۔
میلانووچ نے کہا ہےکہ ایک حالیہ ٹیلیفونک ملاقات میں انہوں نے براہِ راست وزیرِ اعظم اندریج پلینکووِچ کو خبردار کیا ہے کہ "اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کا فوجی تعاون ناقابلِ قبول ہوگا"۔
کروشیاء کے وزیرِ دفاع ایوان آنوسیچ کے سوموار کے دورہ اسرائیل اور اسرائیلی دفاعی کمپنیوں کے نمائندوں اور اسرائیل وزارتِ دفاع کے بین الاقوامی دفاعی تعاون ڈائریکٹریٹ کے حکام سے ملاقاتوں کے حوالے سے میلانووچ نےکہا ہے کہ کروشیا مسلح افواج کے کمانڈر اِن چیف کی حیثیت سے میں ایک دفعہ پھر اس بات پر زور دیتا ہوں کہ کروشیا مسلح افواج اب یا مستقبل میں کسی بھی طرح اسرائیلی فوج کے ساتھ تعاون نہیں کرے گی"۔
انہوں نے واضح کیا ہے کہ جمہوریہ کروشیا کو کسی بھی نقصان سے بچانے کے لیے فوج کے ارکان کسی بھی طرح اسرائیلی فوج یا اسرائیلی دفاعی صنعت کے ساتھ کسی بھی معاہدے یا انتظام کے نفاذ میں حصہ نہیں لیں گے۔ایسے معاہدے کروشیا کے لئے نقصان دہ ہیں اور ناقابلِ نفاذ ہیں ۔
معاہدے روکے جائیں
ملانووچ نے حکومت سے کہ جو فوجی ساز و سامان اور ہتھیاروں کی خریداری کی ذمہ دار ہے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ، اسرائیل سے ہتھیاروں اور فوجی ساز و سامان کی خریداری پر مبنی تمام طے شدہ معاہدوں یا انتظامات کو روک دے"۔
انہوں نے مزید کہا ہےکہ وزیرِ اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ کروشیا کے قومی مفادات کے مطابق عمل کرے، جن میں اُن کے بقول "نیٹو کے اتحادیوں کے ساتھ تعاون" اور کروشیا کی صنعتی صلاحیت کو مضبوط کرنا شامل ہے تاکہ وہ براہِ راست یا بالواسطہ طور پر فوجی ساز و سامان کی تیاری میں حصہ لے سکے۔
واضح رہے کہ آنوسیچ نے امریکی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا تھا کہ انہوں نےدورہ تل ابیب کے دوران اسرائیلی وزیرِ دفاع 'اسرائیل کاٹز 'سے ملاقات کی اور دفاعی وزارتوں کی سطح پر دو طرفہ تعاون کو مضبوط کرنے کے علاوہ کروشیا اور اسرائیل کی دفاعی صنعتوں کے درمیان قریبی تعلقات پر تبادلۂ خیال کیا ہے۔
آنوسیچ نے کہاتھا کہ ملاقات میں تجربات اور معلومات کے تبادلے پر اور خاص طور پر ٹرافی ایکٹیو پروٹیکشن سسٹم سمیت جدید اسرائیلی ٹیکنالوجیوں پر بات چیت کی ہے۔ یہ ٹرافی ایکٹیو پروٹیکشن سسٹم کروشیا کے جرمن لیپرڈ A82 ٹینکوں پر نصب کیا گیا ہے۔
انہوں نے ٹرافی سسٹم کا برآمدی لائسنس جاری کرنے پر کاٹز کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ اس سسٹم نے لیپرڈ A82 ٹینکوں کو دنیا کے بہترین ٹینکوں میں شامل کر دیا ہے۔
آنوسیچ نے کہا ہے کہ "اسرائیلی صنعت کے ساتھ تعاون کے بہت سے امکانات ہیں اور کروشیا وزارتِ دفاع اسے ہماری مسلح افواج اور کروشیا کی سلامتی کے لیے فروغ دیتی رہے گی"۔












