دنیا
3 منٹ پڑھنے
برطانیہ نے جنگ اویغور اور حسن پیکر پر پابندی لگا دی
برطانوی حکام نے جنگ اویغور اور ڈیجیٹل نشریاتی شخصیت حسن پیکر کا برطانیہ میں داخلہ ممنوع کر دیا
برطانیہ نے جنگ اویغور اور حسن پیکر پر پابندی لگا دی
فائل: حسن پیکر امریکہ، نیویارک میں نیویارک سٹی کے میئر کے لیے ڈیموکریٹک امیدوار زہران ممدانی کی انتخابی رات کی ریلی کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے۔ / Reuters

امریکی سیاسی مبصر جنگ اویغور اور ڈیجیٹل نشریاتی شخصیت حسن پیکر نے اتوار کے روز جاری کردہ  بیانات میں کہا ہے کہ انہیں برطانیہ میں داخلے سے روک دیا گیا ہے۔ دونوں شخصیات کا دعویٰ ہے کہ برطانوی حکام کے اس  فیصلے کی وجہ ان کے،  اسرائیل کے بارے میں جاری کردہ، عوامی بیانات ہیں۔

امریکہ میں قائم آن لائن سیاسی خبروں اور تبصروں کے نیٹ ورک "دی ینگ ٹرکس" کے شریک بانی جنگ اویغور نے کہا ہے کہ انہیں اس پابندی کا علم اُس وقت ہوا جب وہ 'ساوتھ بائے ساوتھ ویسٹ لندن'  میں شرکت اور 'آکسفورڈ یونیورسٹی' میں خطاب کے لیے لندن روانہ ہونے والے تھے۔

اویغور نے ایکسسے جاری کردہ  متعدد بیانات میں کہا  ہےکہ برطانوی حکام نے انہیں مطلع کیا  ہےکہ انہیں "عوامی نظم و ضبط کے لیے سنگین خطرہ" تصور کیا گیا ہے۔

اویغور نے کہا ہے کہ "برطانوی حکومت نے اسرائیل پر تنقید کی وجہ سے مجھے عوامی نظم و ضبط کے لیے ایک سنگین خطرہ قرار دیا اور  اسی بنیاد پر مجھ پر پابندی لگائی گئی ہے۔"

انہوں نے مزید کہا ہے کہ اگرچہ وہ اپنے بیانات کو حقائق پر مبنی قرار دیتے ہیں لیکن حکام نے امریکی سیاست پر اسرائیل کے اثر و رسوخ سے متعلق ان کے تبصروں کو "یہود دشمنی" کے زمرے میں رکھا ہے۔

 اویغور کا مؤقف ہے کہ ان پر عائد پابندی برطانیہ سے متعلق کسی تبصرے کے باعث نہیں بلکہ امریکہ میں اسرائیل کے بارے میں دیئے گئے بیانات کی وجہ سے لگائی گئی ہے۔ انہوں نے حکومتی مؤقف میں موجود تضاد کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اس صورتِ حال کو "مکمل طور پر کافکائی" قرار دیا ہے۔

اسی تقریب میں شرکت کے لیے سفر کی تیاری کرنے والے سیاسی مبصر اور مقبول لائیو اسٹریمر حسن پیکر نے بھی بعد ازاں ایکس سے جاری کردہ بیان  میں اعلان کیا ہے کہ ان کا برطانوی ویزا منسوخ کر دیا گیا ہے۔ پیکر نے لکھا ہے کہ "برطانیہ نے میرا ویزا بھی منسوخ کر دیا ہے" اور یہ فیصلہ اسرائیل کے بارے میں ان کی تنقیدی آراء سے متعلق ہے۔

واضح رہے کہ مذکورہ  پابندیاں چند ہفتے قبل برطانوی حکام کی طرف سے، ماضی میں دیئے گئے  یہود مخالف بیانات کو بنیاد بنا کر، امریکی ریپر Ye (کانیے ویسٹ) کے ملک میں داخلے پر پابندی لگا نے کے بعد سامنے آئی ہیں ۔ برطانوی حکام اُس وقت بھی منتظمین کی درخواستوں اور فنکار کی جانب سے فیصلے پر نظرِ ثانی کے، رائے عامہ کے لئے کھُلے، مطالبوں کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہے تھے۔

دریافت کیجیے
سیلاب سے ایک ہفتے سے زیادہ عرصے کے بعد دو افراد کو ایک ٹنل سے زندہ بچا لیا گیا
تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ ایران قرار دینے والے  امریکی نائب صدر کو ایران کا جواب
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
ترکیہ: قالن۔دیمیرس ملاقات
پاک فوج: "خیبر پختونخوا میں 15 دہشتگرد غیر فعال کر دیے گئے ہیں"
نیو یارک سٹی نے آٹھویں جماعت تک کے طلبہ کے لیے مصنوعی ذہانت ممنوع کر دی
ماسکو پر 37 ڈرونز سے حملے کی  کوشش ناکام بنا دی گئی
ٹرمپ کا جنگ ختم کرنے پر غور،پینٹاگون کا نفری بڑھانے پر زور
مشرق وسطی کے ممالک مسئلہ فلسطین کو  پس پشت نہ ڈالیں:چین
کرغزستان اور پاکستان کا باہمی تجارت کو 200 ملین ڈالر تک بڑھانے کا ہدف
آذربائیجان: اسلحہ ڈپو میں دھماکہ ،5 ہزار افراد کا انخلا
روس، یوکرین کے خلاف جنگ جیت رہا ہے: پوتن
ہم، صدر السیسی کے ساتھ مل کر کام کرنے کے منتظر ہیں: صدر شی
ماسکو: برلن کے دعوے "بے بنیاد، مضحکہ خیز اور غیر منطقی" ہیں
اسرائیلی فوجیوں نے نمازیوں پر آنسو گیس چھوڑ دی