سیاست
3 منٹ پڑھنے
فائر بندی کے بعد پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام بات چیت کریں گے
بھارت کا بیان دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن بروز پیر بات چیت کریں گے تاہم پاکستان نے اس پر کوئی تبصرہ نہیں کیا
فائر بندی کے بعد پاکستان اور بھارت کے فوجی حکام بات چیت کریں گے
Trump facilitated India-Pakistan conflict ceasefire / AP

بھارت اور پاکستان کے فوجی آپریشنوں کے سربراہان پیر کے روز، جنگ بندی اور سرحد پر سکون کی بحالی کے بعد، اگلے اقدامات پر بات چیت  کریں گے۔

ابتدائی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد رات بھر کسی دھماکے یا گولہ باری کی اطلاع نہیں ملی۔ بھارتی فوج نے کہا  ہےکہ اگرچہ کچھ اسکول ابھی بھی بند ہیں  تاہم اتوار کی رات حالیہ دنوں میں سرحد کی پہلی پرامن رات تھی ۔

ایک اعلیٰ بھارتی فوجی افسر نے کہا  ہے کہ بھارتی فوج نے اتوار کے روز پاکستان کو ایک 'ہاٹ لائن' پیغام بھیجا جس میں گزشتہ دن کی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا اور نئی دہلی کے ارادے کو واضح کیا ہے کہ ایسی مزید خلاف ورزیوں پر جواب دیا جائے گا۔

تاہم پاک فوج کے ترجمان نے کسی بھی خلاف ورزی کی تردید کی ہے۔

 ہفتے کے روز ایک بیان میں، بھارتی وزارت خارجہ نے کہا  تھا کہ دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل آف ملٹری آپریشن بروز پیر مقامی وقت کے مطابق دوپہر 12 بجے بات کریں گے۔

پاکستان نے اس مذاکراتی منصوبے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

واضح رہے کہ بھارت کی طرف سے پاکستان کو ،پہلگام  میں 26 سیاحوں کی ہلاکت کا سبب بننے والے، حملے کا ذمہ دار  ٹھہرائے جانے کے بعد کشیدگی میں اضافہ ہو گیا تھا۔ بھارت کی طرف سے پاکستان پر میزائل حملوں کے بعد دونوں حریف ملکوں نے ایک دوسرے کی فوجی تنصیبات کو میزائلوں اور ڈرونوں  سے نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں درجنوں شہری ہلاک ہوگئے ہیں۔

پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے اور ایک غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

بھارت نے کہا  ہےکہ اس نے بدھ کے روز پاکستان اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں نو 'دہشت گردی مراکز' پر حملے کیے ہیں لیکن اسلام آباد نے کہا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے مقامات شہری مقامات تھے۔

اسلام آباد نے جنگ بندی میں سہولت فراہم کرنے پر واشنگٹن کا شکریہ ادا کیا اور بھارت کے ساتھ مقبوضہ  کشمیر کے تنازعے پر ٹرمپ کی ثالثی پیشکش کا خیر مقدم کیا ہے۔ لیکن نئی دہلی نے جنگ بندی یا کسی غیر جانبدار مقام پر بات چیت میں امریکی شمولیت پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

بھارت نے کسی تیسرے فریق کی شمولیت کو مسترد کر دیا  اور  کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ تنازعات کو براہ راست ہمسایہ ممالک کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے ۔

ہندو اکثریتی بھارت اور مسلم اکثریتی پاکستان دونوں ہمالیائی علاقے' کشمیر 'کے کچھ حصے پر حکومت کرتے ہیں، لیکن اس پر مکمل حق کے دعوے دار  ہیں۔

بھارت مقبوضہ کشمیر میں 1989 میں شروع ہونے والی مزاحمت کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہراتا ہے۔  

دریافت کیجیے
امریکی ایوانِ نمائندگان  نے اسرائیل کا بائیکاٹ کرنے والی یونیورسٹیوں پر پابندیاں عائد کر دیں
ٹرمپ نے ایران کو مذاکرات کے میز پر لانے کی کوششوں کے دعوؤں کو مسترد کر دیا
ٹرمپ: "اگر میں امریکہ کا صدر نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود نہ رہتا"
امریکا اور ونیزویلا کے درمیان 'دنیا کے بڑے ترین تیل معاہدے' طے
امریکہ اور ایران کے درمیان فی الحال کوئی مذاکرات نہیں ہو رہے: وائٹ ہاؤس
ٹرمپ انتظامیہ نےامیگرینٹ ویزا درخواستوں کو عارضی طور پر منجمد کر دیا - رپورٹ
امریکی وزیر دفاع: "ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں"۔
یورپی یونین نے یوکرین کے یومِ آزادی کے موقع پر 7.1 بلین ڈالر کا نیا دفاعی پیکیج منظور کر لیا
اسرائیلی سیکیورٹی افسران: نتن یاہو ترکیہ کے ساتھ 'غیر ضروری' کشیدگی کو ہوا دے رہے ہیں — رپورٹ
جرمنی خفیہ ایجنسیوں کو وسیع پیمانے کے اختیارات دینے کی حکمت عملی میں مصروف
حزب الله، حکومتِ لبنان اسرائیل کے ساتھ سرحدی نقشے پر براہ راست مذاکرات بند کر دے
آئی او س کا ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان 'تاریخی' دفاعی معاہدے کا خیر مقدم
ٹرمپ کا دعویٰ: وہ نہیں چاہتے کہ انہیں مارا جائے، ایران امریکہ کے ساتھ جوہری معاہدہ کرنا چاہتا ہے
ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان مشترکہ دفاعی معاہدہ طے پا گیا
آبنائے ہرمز بہت جلد کھل جائے گی: ٹرمپ
مراکشی عہدیدار: غیر قانونی نقل مکانی سے نمٹنا مشترکہ ذمہ داری ہے
روس: جولائی میں ماسکو پر 6,000 سے زیادہ ڈرون حملے کیے گئے
ٹرمپ نے یوکرین کو پیٹریئٹ میزائل سسٹم لائسنس دینے پر اتفاق کیا ہے، زیلینسکی
فرانسیسی صدر میکرون کا ترکیہ سے آگ بجھانے والے طیارے روانہ کرنے کا شکریہ
متحدہ عرب امارات کی مغربی کنارے پر دو مساجد کو نذر آتش کیے جانے کی مذمت