وزارتِ خارجہ کے ترجمان اونجو کییچلی نے سوشل میڈیا پر سربرنِتسا قتلِ عام کے سب سے بڑے ذمہ داروں میں سے 'بوسنیا کا قصّاب' کے لقب سے معروف راتکو ملادچ کے لیے آخری رسومات کے اہتمام کے حوالے سے ایک پوسٹ جاری کی۔
پوسٹ میں کیچیلی نے کہا کہ "سربرنِتسا قتلِ عام، انسانیت سوز جرائم اور جنگی جرائم کے سلسلے میں بین الاقوامی عدالتوں کی جانب سے قطعی طور پر سزا یافتہ راتکو ملادچ کو عزت و احترام دینا ، ارتکاب شدہ سنگین جرائم اور جھیلے گئے انسانی المیے کی نفی کے معنی میں آتا ہے جو کہ قابلِ قبول نہیں ہے۔"
اس نے امن و مفاہمت کے لیے جاری کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
کیچیلی نے اشارہ کیا کہ ان عدالتوں کے فیصلوں کو رد کرنا یا سزا یافتہ مجرمین کو ہیرو کے طور پر پیش کرنے کی کوششیں متاثرین اور اُن کے قریبی رشتے داروں کےکرب کو مزید گہرا کررہی ہیں، اور یہ برسوں سے علاقے میں امن و مفاہمت کے لیے مصمم ارادے سے جاری کوششوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں۔
کیچیلی نے کہا کہ خطہ بلقان ماضی سے ضروری سبق حاصل کرے تا کہ مل جُل کر ایک پرامن، خوشحال اور مشترکہ مستقبل تعمیر کیا جائے۔ انہوں نے خاص طور پر سربرنِتسا قتلِ عام کے مقتولین کو احترام کے ساتھ یاد کیا اور بوسنیا کی جنگ کے دوران جان بحق ہونے والے تمام بےگناہ لوگوں کے لیے تعزیت اور اُن کے اہلِ خانہ کے درد میں برابر کے شریک ہونے کا اظہار کیا۔





















