ایران اور امریکہ کے درمیان آج بروز پیر، سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں منعقدہ پہلا 'لوزرن لیک سربراہی اجلاس' صبح کے ابتدائی گھنٹوں میں ختم ہو گیا ہے۔
مذاکرات میں 'اسلام آباد یادداشتِ مفاہمت' کے تحت مذاکرات کو حتمی معاہدے تک لے جانے کے لیے متعدد میکنزموں پر اتفاق کیا گیا ہے۔
100 منٹ پر مشتمل پہلی براہِ راست مذاکراتی نشست میں امریکی وفد کی سربراہی نائب صدر جے ڈی وینس اور ایرانی وفد کی سربراہی پارلیمنٹ اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کی۔
ملاقات کے بارے میں جاری کردہ مشترکہ بیان میں ثالث ممالک 'قطر اور پاکستان' نے کہا ہے کہ بات چیت 'مثبت اور تعمیری ماحول' میں ہوئی اور 'حوصلہ افزا پیش رفت' سامنے آئی ہے۔
مشترکہ بیان کے مطابق مذاکرات کے کلیدی نتائج درج ذیل ہیں:
1۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی: بیان کے مطابق فریقین نے ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ہےجو ثالثی کو سیاسی نگرانی کی خدمات فراہم کرے گی۔
2۔ ورکنگ گروپ: امریکی اور ایرانی چیف مذاکرات کار ایرانی جوہری پروگرام، پابندیوں سے متعلقہ امور اور یادداشتِ مفاہمت کے مؤثر نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ڈیزائن شدہ 'اختلافات حل میکانزم 'پر توجہ مرکوز رکھنے والے ورکنگ گروپوں کی قیادت کریں گے۔ اعلیٰ سطحی کمیٹی مذاکرات کاروں سے باقاعدہ رپورٹ حاصل کرے گی اور ان مخصوص ورکنگ گروپوں کی نگرانی کرے گی۔
3۔60 روزہ روڈ میپ: یادداشتِ مفاہمت کی بنیاد پر، فریقین نے 60 روز میں حتمی معاہدے تک پہنچنے کے لیے ایک روڈ میپ پر اتفاق کیا، جس نے فوری تکنیکی مذاکرات کے لیے بنیاد فراہم کی ہے۔
4۔ تکنیکی مذاکرات: برگن اسٹاک میں ہفتے کے باقی دنوں کے لیے تمام زیرِبحث امور پر تکنیکی مذاکرات جاری رہیں گے۔
5۔ہرمز: تجارتی بحری جہازوں کے محفوظ سیر و سفر کو یقینی بنانے اور 'واقعات اور غلط فہمیوں' کو روکنے کے لیے ایک مواصلاتی چینل قائم کیا گیا ہے۔ برگن اسٹاک میں کثیرالجہتی پیچیدہ مذاکرات کے بعد ایران وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ فریقین نے اس اسٹریٹیجک سمندری گزرگاہ میں بحری سلامتی کی یقین دہانی کے لیے ایک میکانزم قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
6۔لبنان کے لیے جھڑپوں سے پاک سیل': فریقین نے لبنان میں فوجی کارروائیوں کی بندش کے تحت پابندیوں کی نگرانی کے لیے ثالثوں کی وساطت سے ایک 'جھڑپوں سے پاک سیل' قائم کرنے پر اتفاق کیا ہے۔ بقائی نے کہا ہے کہ مذاکرات کا ایک اہم نتیجہ ایک نئے نگرانی میکانزم، یعنی 'جھڑپوں سے پاک سیل'کے قیام پر اتفاق تھا، جس میں ثالثین شامل ہوں گے تاکہ بالخصوص لبنان کے معاملے میں جنگ بندی اور دشمنیوں کے خاتمے کی مسلسل نگرانی کی جا سکے ۔ انہوں نے مزید کہا ہے کہ فریقین نے ایرانی تیل کی فروخت کے لیے ضروری لائسنس جاری کرنے اور ایران کے منجمد یا محدود اثاثوں کی رہائی سے متعلق شقوں کے حوالے سے اہم پیغامات کا بھی تبادلہ کیا اور کہا ہےکہ دونوں معاملات میں پیش رفت ہوئی ہے۔
7۔ ثالثوں کی وابستگی: قطر اور پاکستان نے کہا ہے کہ وہ 'تعمیری ماحول' برقرار رکھنے اور حتمی معاہدے تک پیش رفت کی حمایت کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے۔













