چینی سرکاری میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ چین کا ایک راکٹ جو ایک مواصلاتی سیٹلائٹ لے جا رہا تھا،کو ناکام لانچنگ کا سامنا کرنا پڑا ، "فلائٹ رپورٹس اور ویڈیوز کے مطابق خلائی جہاز فضا میں پھٹ گیا " ۔ حکام نے ناکامی کی وجہ "پرواز کی بے ضابطگی" کو قرار دیا۔
حکومت نے حالیہ برسوں میں اپنے خلائی پروگرام میں اربوں ڈالر خرچ کیے ہیں تاکہ صدر شی جن پنگ کے بقول ملک کا "خلائی خواب" حاصل کیا جا سکے۔
سرکاری خبر رساں ایجنسی ژنہوا کے مطابق، پیر کے روز نایاب لانچ کی ناکامی میں لانگ مارچ 7A کیریئر راکٹ شامل تھا جو چین کے جنوبی صوبے، ہینان میں واقع وینچانگ خلائی لانچ سائٹ سے مقامی وقت کے مطابق رات 8:02 پر اڑان بھری ۔
خبر ایجنسی کا کہنا ہے کہ اس ناکامی کی وجوہات کی تفتیش کی جا رہی ہے۔
سنگاپور میں قائم براڈکاسٹر چینل نیوز ایشیا نے ایک انسٹاگرام پوسٹ میں راکٹ کے پھٹنے کا اعلان کیا، جس میں ایک ہجوم کی تصویر شیئر کی گئی جو آسمان میں آگ کے گولے کی طرح حیرت سے دیکھ رہی تھی۔
مشکل کام
چینی اسپیس ایجنسی کے مطابق جولائی میں پہلی بار ایک قابلِ استعمال راکٹ کامیابی سے زمین پر اتارا، جو اس کی خلائی اہداف اور لانچ اخراجات کو کم کرنے میں ایک بڑا قدم تھا۔
یہ ملک 2030 سے پہلے چاند پر خلا باز اتارنے کا ہدف رکھتا ہے، ایک ایسی دوڑ جس میں امریکہ بھی اپنے آرٹیمِس پروگرام کے ساتھ حصہ لے رہا ہے۔
اسپیس ایکس کے سی ای او ایلون مسک نے X پر پیر کی ناکام لانچ کے بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "راکٹ کی تیاری ناقابلِ یقین حد تک مشکل ہوتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا، "مجھے امید ہے کہ وہ جلد ہی اپنے پروگرام کو بحال کر لیں گے۔"
ایک چار ٹن وزنی اسپیس ایکس راکٹ کے بروز بدھ غلطی سے چاند سے ٹکرا جانے کا خیال ہے ، جس کے نتیجے میں چاند پر ایک گڑھا بن جانے کی توقع کی جاتی ہے۔
ژنہوا نے اس سال مارچ میں رپورٹ کیا تھا کہ وینچانگ سائٹ سے لانگ مارچ 7A کی چین کی 2020 میں پہلی اڑان بھی ناکام رہی تھی ۔
















