یوکرینی حکام کا کہنا ہے کہ ایک بڑے روسی میزائل اور ڈرون حملے نے یوکرین کی راجدھانی کیف اور اس کے اطراف میں کم از کم چار افراد کو ہلاک اور درجن سے زائد کو زخمی کر دیا۔
یہ حملے اسی وقت ہوئے جب بچے موسمِ گرما کی تعطیلات کے بعد دوبارہ اسکول جانے کی تیاریوں میں تھے، جس کے نتیجے میں حکام نے مزید روسی فضائی حملوں کے خدشات کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات سخت کر دیے ہیں۔
تیمور تکاچنکو نے ٹیلگرام پر کہا: 'آج رات کیف کے علاقے پر روسی میزائلوں اور ڈراونز کے بڑے حملے ہوئے۔'
شہری فوجی انتظامیہ نے کہا: ' بڑے افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ دارالحکومت پر دشمن کے حملے میں 3 افراد ہلاک ہوئے۔' انتظامیہ نے 5 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع بھی دی۔
کیف کے مشرق میں واقع بوریسپِل میں حملوں نے ایک تجارتی مرکز کو نقصان پہنچایا، جس سے ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا، جبکہ ایک رہائشی عمارت پر حملے سے مزید آٹھ افراد زخمی ہو گئے۔
فضائی دفاع پر دباؤ
یوکرینی فضائیہ نے خبردار کیا ہے کہ کیف اور اس خطے کے خلاف 'بالسٹک ہتھیار اور دیگر حملوں' کا خطرہ برقرار ہے، رہائشیوں کو پناہ گاہوں میں رہنے کی ہدایت کی گئی۔
نئے تعلیمی سال کے منگل کو شروع ہونے کے پیشِ نظر، علاقائی حکام نے زیادہ خطرے والے علاقوں میں بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔
کیف کو روسی ڈرون حملوں کی وجہ سے مسلسل فضائی دباؤ کا سامنا ہے، جہاں جیٹ سے چلنے والے ڈرون روزانہ ایک درجن تک ہوائی خطرے کی وارننگز کو متحرک کر رہے ہیں۔
اختتام الہفتہ دارالحکومت کے مضافات میں ایک گولہ بارود کے گودام پر حملے میں 38 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
دونوں فریقوں نے گوداموں، تجارتی سہولیات، بندرگاہوں اور تیل کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا کر دور دراز کے حملوں میں شدت لائی ہے۔
یوکرین کو اب بھی انٹرسیپٹر میزائلز کے بحران کا سامنا ہے، بالخصوص امریکی ساختہ 'پیٹریاٹ' نظاموں کا جو بالسٹک خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے درکار ہیں۔
دوسری جانب ایک یوکرینی فضائی حملے نے روس کے وولگا دریا کے کنارے واقع سامارا علاقے میں شہری تنصیبات کو نقصان پہنچایا — یہ علاقہ بڑی تیل ریفائنریز کا مقام ہے — علاقے کے گورنر ویاچیسلاو فیڈوریشچیف نے ابتدائی طور پر کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں دی۔


















