تترک وزیرِ خارجہ حاقان فیدان نے ہفتہ کو امریکہ اور اسرائیل کی ایران پر کی گئی بمباری کے بعد ایران، عراق، سعودی عرب، مصر اور انڈونیشیا کے اپنے ہم منصبوں سے الگ الگ ٹیلیفون پر بات چیت کی۔
ترک وزارتِ خارجہ کے ذرائع کے مطابق فیدان نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، عراقی وزیرِ خارجہ فواد حسین، مصری وزیرِ خارجہ بدر عبدالطی اور انڈونیشیائی وزیرِ خارجہ سوگیونو سے الگ الگ ٹیلی فون پر رابطہ کیا۔
بات چیت کے دوران سینئر سفارت کاروں نے خطے میں تازہ ترین پیش رفت اور حملوں کو روکنے کے لیے ممکنہ اقدامات پر تبادلہ خیال کیا۔
اسرائیل اور امریکہ نے ہفتہ کی صبح ایران کے خلاف حملہ کیا، اور اس کا جواز انہوں نے 'ایرانی حکومت' کی مبینہ جانب سے لاحق خطرات کے طور پر پیش کیا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو دونوں نے ویڈیو بیانات جاری کیے۔
یہ حملے ایسے وقت ہوئے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایران کے جوہری پروگرام پر بات چیت عمان کی ثالثی کے تحت جاری تھی۔ جنیوا میں مذاکرات کا نیا دور جمعرات کو ختم ہوا تھا۔
گزشتہ جون میں اسرائیل نے ایران کے خلاف بارہ روزہ جنگ کا آغاز بھی کیا تھا، جس میں بعد ازاں امریکہ نے حصہ لیا اور تین ایرانی جوہری تنصیبات کو بمباری کا نشانہ بنایا تھا ۔













