سیاست
3 منٹ پڑھنے
ٹرمپ: میکرون کا فلسطین کو تسلیم کرنا 'ٹھیک فیصلہ اور ان کا ذاتی' فیصلہ ہے
ایمانوئل میکرون کے اس اقدام کے بعد برطانوی وزیر اعظم اسٹارمر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا قدم اٹھائیں
ٹرمپ: میکرون کا فلسطین کو تسلیم کرنا 'ٹھیک فیصلہ اور ان کا ذاتی' فیصلہ ہے
President Donald Trump speaks to members of the media after he arrived at Prestwick Airport in Ayrshire, Scotland. / AP

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا فلسطین کو ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا فیصلہ "ٹھیک" ہے اور "یہ ان کا اپنا معاملہ ہے۔"

گلاسگو پریسٹوک ایئرپورٹ پر اترنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، ٹرمپ نے کہا: "یہ ان کا کام ہے؛ یہ ٹھیک ہے۔ یہ ان کا فیصلہ ہے، میرا نہیں۔"

ٹرمپ نے برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر پر بھی تبصرہ کرتے ہوئے کہا: "وہ مجھ سے تھوڑے زیادہ لبرل ہیں، لیکن مجھے وہ پسند ہیں۔"

امریکی صدر اسکاٹ لینڈ میں پانچ روزہ دورے پر ہیں، جس دوران وہ ایک نئے گولف کورس کا افتتاح کریں گے اور اسٹارمر اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان دیر لیئن کے ساتھ ملاقاتیں کریں گے۔

اسٹارمر پر دباؤ بڑھ رہا ہے

میکرون نے جمعرات کو اعلان کیا  تھاکہ فرانس اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دوران ستمبر میں فلسطین کو باضابطہ طور پر ریاست کے طور پر تسلیم کرے گا۔

اس فیصلے پر اسرائیل کی جانب سے سخت ردعمل آیا ہے اور یہ بین الاقوامی سطح پر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔

دوسری جانب، اسٹارمر پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ بھی اسی طرح کا قدم اٹھائیں۔

رپورٹس کے مطابق، ان کی کابینہ کے کئی سینئر اراکین — جن میں ہیلتھ سیکریٹری ویس اسٹریٹنگ، جسٹس سیکریٹری شبانہ محمود، نادرن آئرلینڈ سیکریٹری ہلیری بین، اور کلچر سیکریٹری لیزا نینڈی شامل ہیں — نے وزیر اعظم سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ دباؤ میکرون کے اعلان کے بعد بڑھا، جس کے بارے میں ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ اسٹارمر کو فلسطین کو مشترکہ طور پر تسلیم کرنے کے لیے قائل کرنے کی کوششوں کے بعد آیا۔

نو جماعتوں کے 220 سے زائد برطانوی اراکین پارلیمنٹ نے ایک خط پر دستخط کیے ہیں جس میں حکومت سے فوری کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے، اور برطانیہ کے اس تنازعے میں تاریخی کردار اور 1980 سے دو ریاستی حل کی حمایت کا حوالہ دیا گیا ہے۔

پارلیمنٹ کی خارجہ امور کمیٹی کی چیئر ایمیلی تھورن بیری نے کہا: "حکومت نے ہمیشہ بہت کم اور بہت دیر سے عمل کیا ہے۔"

لیبر پارٹی کی رکن  سارہ چیمپئن، جنہوں نے اس کثیر الجماعتی خط کا آغاز کیا، نے ایکس پر لکھا: "نو جماعتوں کے 221 ایم پیز نے مشترکہ خط پر دستخط کیے ہیں، جس میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فلسطین کو فوری طور پر ریاست کے طور پر تسلیم کرے۔"

سائنس و ٹیکنالوجی کے وزیر پیٹر کائل نے محتاط ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ اب بھی فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کی حمایت کرتا ہے، لیکن فوری ترجیحات انسانی ہمدردی کی ہیں: "ہم فلسطینی ریاست چاہتے ہیں، ہم اس کی خواہش رکھتے ہیں… لیکن اس وقت، آج، ہمیں اس پر توجہ دینی ہوگی کہ کس طرح اس بحران  کو کم کیا جا سکتا ہے۔"

 

دریافت کیجیے
صدر ایردوان کا یوم غازی کے حوالے سے پیغام
یورپ میں تعلیمی بحران: PISA کے نتائج تاریخ کی کم ترین سطح پر
سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کا امریکہ کی طرف سے صدرِ فلسطین کو ویزا نہ جاری کرنے پر اظہارِ افسوس
پاکستان میں دہشت گرد حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 31 ہو گئی
اسرائیلی فوج کو تین سالہ جنگوں کے بعد عسکری سازو سامان میں 'شدید کمی' کا سامنا ہے: رپورٹ
صدر ایردوان:"ہم نے ترکیہ کو دنیا کے سب سے بڑے فضائی نیٹ ورکس  میں شامل کیا ہے"
پاکستان میں مسجد کے قریب دھماکہ،  کم ازکم  15 افراد جاں بحق، 50 سے زائد زخمی
ایران میں جنگ چھڑنے کے بعد حکومت کے حق میں بڑی ترین ریلی،  لاکھوں ایرانی شہری یکجا ہوئے
روس اور یوکرین میں کل شب کے حملوں میں متعدد افراد زخمی
جنوبی کوریا نے آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار کردیا؛ جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
غزہ میں اسرائیلی جارحیت کے شکار ایک محلے سے مزید 12 لاشیں بازیاب
بحری خلاف ورزیاں،پاک-بھارت کا ایک دوسرے سے احتجاج
اقوام متحدہ: "امریکا کے خلاف ایران میں جنگی جرائم کے مرتکب ہونے کے معقول دلائل موجود ہیں"
ترکیہ کا حُرکش-II ترک فضائیہ کے سپرد کیا جانے والا پہلا مقامی طیارہ ہو گا
روس اور یوکرین کے درمیان حملوں کی اطلاع