وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کیرولائن لیوٹ نے کہا ہے کہ فی الحال امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات نہیں ہو رہے۔
لیوٹ نے جمعرات کو فاکس نیوز کو بتایا، "ابھی مذاکرات ہو نہیں رہے، اور یہ تب تک جاری رہے گا جب تک صدر محسوس نہ کریں کہ ممکن ہے وہ بامعنی انداز میں میز پر آئیں۔ ہم نے فی الحال ایسا کچھ نہیں دیکھا۔"
انہوں نے کہا کہ امریکہ اس کی بجائے ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے، جس کے لیے وائٹ ہاؤس نے "آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ" کے نام سے ایک قدم اٹھایا ہے۔ لیوٹ نے مزید کہا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس " تا حال تمام اختیارات میز پر ہیں۔"
لیوٹ نے مزید کہا، "ان کے فوجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کے لیے ہم نے 'آپریشن ایپک فیوری' سر انجام دیا ۔ اب ہمارے پاس ان کی معیشت کو تباہ کرنے کے لیے 'آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ' ہے۔"
"امریکہ اصل میں آبنائے ہرمز پر کنٹرول کر رہا ہے، جو صدر ٹرمپ اور امریکی فوج کی بدولت کھلا رہا ہے۔"
پاکستان اور قطر کی ثالثی کے بعد، جون میں امریکہ اور ایران نے تفاہم نامہ پر دستخط کیے، مگر ہرمز کے حوالے سے اختلافات کے باعث اس کی عملی نوعیت رک گئی ہے۔
امریکہ نے پچھلے ماہ ایران پر عسکری حملے دوبارہ شروع کیے، جس کے جواب میں تہران نے واشنگٹن کے حامی عرب ممالک میں امریکی عسکری اثاثوں کو نشانہ بنایا۔

















