مشرق وسطی
1 منٹ پڑھنے
امریکی انخلا کے بعد اہم الطنف بیس پر شامی فوج متعین ہو گئی
کہا جاتا تھا کہ ایک موقع پر تقریباً 200 امریکی فوجی ال تنف میں تعینات تھے مگر ٹاور 22 پر تعینات امریکی اہلکاروں کی تعداد کی تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہے
امریکی انخلا کے بعد اہم الطنف بیس پر شامی فوج متعین ہو گئی
شام-امریکہ / AP
12 فروری 2026

شامی حکومت نے عراق اور اردن کی سرحد کے سنگم پر واقع اسٹریٹجک الطنف اڈے پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

شامی حکومتی ذرائع نے انادولو کو بتایا کہ شامی فوج نے اڈے کا کنٹرول سنبھال لیا اور وہاں تعینات ہو گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق ،امریکی افواج اس کے بعد "ٹاور 22" نامی ایک اڈے پر منتقل ہو گئیں، جو اردن اور شام کے درمیان غیر فوجی زون کے قریب واقع ہے اور ال تنف سے 22 کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔

اگرچہ کہا جاتا تھا کہ ایک موقع پر تقریباً 200 امریکی فوجی الطنف میں تعینات تھے مگر ٹاور 22 پر تعینات امریکی اہلکاروں کی تعداد کی تصدیق شدہ معلومات دستیاب نہیں ہے۔

 یاد رہے کہ امریکہ نے الطنف اڈے کا استعمال کیا تھاجسے 2017 اور 2018 میں وسعت دی گئی تھی اور وہاں جاسوس غباروں کے ذریعے ایران نواز گروپوں اور داعش دہشت گرد تنظیم کی اردن کی سرحد سے لے کر فرات تک سینکڑوں کلومیٹر کے علاقے میں عسکری سرگرمیوں کی نگرانی کی جاتی تھی۔

 

دریافت کیجیے
لبنان پر تازہ اسرائیلی حملے،  20 افراد ہلاک اور 26 زخمی
شمالی کوریا: ہم، سیول-واشنگٹن فوجی مشقوں کا جواب دیں گے
سعودی عرب نے متعدد ایرانی ڈرون حملوں کو ناکام بنا دیا
توانائی بحران زور پکڑ رہا ہے تو ایران کے پیٹرول کے بنیادی ڈھانچوں پر حملے جاری ہیں
روس: اصفہان پر حملوں میں ہمارے قونصل خانے کو نقصان پہنچا ہے
یورپی یونین: مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد کا درجہ"ناقابلِ قبول" ہے
ٹرمپ انتظامیہ: برّی آپریشن پر غور کر رہی ہے
امریکہ-ایران جنگ کا نتیجہ، تیل کی قیمتیں بڑھ گئیں
ہم، بین الاقوامی پیٹرول ذخائر کو کھولنے کی حمایت کرتے ہیں: ریوز
امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا:ایران
ایرانی پاسدارانِ انقلاب: 'جنگ کے خاتمے کا فیصلہ ہم کریں گے'
اسرائیل نے لبنانی مارونی کیتھولک پادری کو ہلاک کر دیا
امریکہ: افغانستان 'ناحق گرفتاریوں کا حامی ملک' ہے
ایردوان: ترکیہ کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کا 'کوئی بھی جواز قابل قبول نہیں'
ایرانی بیلسٹک میزائل حملہ ترکیہ نے ناکام بنادیا