دنیا
3 منٹ پڑھنے
نوبل امن ایوارڈ یافتہ ناوی پیلے نے اپنا ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کا نشانہ بننے والوں کے نام کیا
جنوبی افریقہ کی قانون ساز نے عالمی رہنماؤں سے انسانی حقوق اور بین الاقوامی عدالتوں کا دفاع کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ قانونی اداروں کو بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا ہے۔
نوبل امن ایوارڈ یافتہ ناوی پیلے نے اپنا ایوارڈ بین الاقوامی جرائم کا نشانہ بننے والوں کے نام کیا
ناوی پلے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے ادارے کے جنیوا ہیڈکوارٹر میں، اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالتے ہوئے پوز دیتے ہوئے۔ (اے ایف پی آرکائیو)

جنوبی افریقی قانون دان نَوی پِلّے، جنہیں 2026 کا نوبل امن انعام دیا گیا، نے یہ اعزاز عالمی جرائم کا نشانہ بننے  والوں کے نام کیا اور عالمی رہنماؤں سے بین الاقوامی قانون کی پاسداری اور انسانی حقوق کے تحفظ کا مطالبہ کیا ہے۔

پلے نے جمعے کو جرمنی کے شہر نیورمبرگ میں تاریخی کمرہ عدالت جہاں دوسری جنگ عظیم کے بعد نازی رہنماؤں پر مقدمہ چلایا گیا تھا، میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں کہا کہ، ’’میں یہ ایوارڈ بین الاقوامی جرائم  کا نشانہ بننے والے تمام افراد کے لیے وقف کرتی ہوں۔‘‘

85 سالہ ایوارڈ یافتہ نے کہا کہ یہ مقام اس لیے خاص معنی  رکھتا ہے  کہ انہیں اسی  مقامِ عدالت اس انعام کے بارے میں اطلاع ملی۔

پیلّے، جنہوں نے بین الاقوامی انصاف کے میدان میں دہائیوں تک کام کیا ہے، نے خبردار کیا کہ قانونی ادارے اور انسانی حقوق کے تحفظات بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

پیلّے نے بین الاقوامی عدالتوں پر حملوں کے خلاف خبردار کیا

انہوں نے کہا"ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جب بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق شدید سیاسی حملوں کی زد میں ہیں، انہوں نے خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت (ICC) پر تنقید کی طرف اشارہ کیا۔

"یہ حقیقت خاص طور پر بین الاقوامی فوجداری عدالت پر ہونے والے حملوں میں واضح ہے۔"

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ماہ ICC کے رکن ممالک سے اپیل کی تھی کہ وہ اس کی رکنیت سے  دستبردار ہو جائیں اور اس ادارے کو ایک 'باغی ادارہ' قرار دیا تھا۔

پیلّے نے سیاسی رہنماؤں سے اپیل کی کہ وہ اپنی قانونی ذمہ داریاں احترام سے نبھائیں اور ایسے اقدامات سے گریز کریں جو بین الاقوامی تحفظات کو کمزور کریں۔

انہوں نے کہا"میرا  سیاسی رہنماؤں کو یہ پیغام ہے کہ  آپ کی قانونی ذمہ داری ہے کہ انسانی حقوق کا تحفظ کریں اور جنگوں سے باز رہیں۔"

ایک کیرئیر جو بین الاقوامی انصاف نے تشکیل دیا

پیلّے نے بین الاقوامی قانون میں کئی معروف عہدے سنبھالے ہیں۔ وہ روانڈا کے لیے بین الاقوامی فوجداری ٹریبونل کی سربراہی کر چکی ہیں، جس نے 1994 کی نسل کشی کے ذمہ داران کو مقدمہ چلایا، اور اس وقت وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICJ) کی جج کے طور پر خدمات انجام دے رہی  تھیں۔

وہ ایک ایسے مقدمے میں بھی کام کر رہی ہیں جس میں میانمار پر روہنگیا اقلیت کے خلاف نسل کشی کے الزامات لگائے گئے ہیں۔

پیلّے نے ایک دور میں  اقوامِ متحدہ کے ایک کمیشن کی صدارت بھی کی، جس نے پچھلے سال نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اسرائیل نے غزہ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا تھا۔

ان کا یہ  ایوارڈ بین الاقوامی قانون کے نفاذ، ریاستوں کی جوابدہی اور عدالتی اداروں کی آزادی کے بارے میں جاری بین الاقوامی بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔