ایک روسی فنکار و کارٹونسٹ، جسے روسی صدر ولادیمیر پوتن کا تمسخر اڑانے کے ساتھ جانا جاتا تھا، پیر کے روز مشرقی پولینڈ میں گولی لگنے سے ہلاک ہو گیا — پولش میڈیا نے اس واقعہ کو ممکنہ طور اقدام ِ قتل قرار دیا ہے۔
متعدد پولش براڈ کاسٹرز نے مقتول کی شناخت سیمیون سکرپیتسکی کے نام سے کی ہے، جو 44 سالہ روسی شہری تھا اور بیلاروس کی سرحد کے قریب واقع بیالا پوڈلاسکا شہر میں مقیم تھا۔
پولیس نے تصدیق کی کہ ایک 44 سالہ روسی شہری کو پیر کی صبح شہر کے مرکز کے قریب ایک سڑک پر گولیاں ماری گئیں ، جو کہ بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا۔ حملہ آور یا حملہ آورین جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔
ایک پولش صحافی نے اطلاع دی ہے کہ اس واقعہ کے کچھ دیر بعد بیالا پودلاسکا میں بیلاروس قونصل خانے کے قریب ایک بیلاروسی شہری کو حراست میں لیا گیا، تاہم حکام نے کسی گرفتاری کی باقاعدہ تصدیق نہیں کی۔
پولش اٹارنی اور پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے اور آئندہ چند روز میں مزید تفصیلات متوقع ہیں۔ فی الحال کوئی عوامی ثبوت موجود نہیں جو اس واقعے کو براہِ راست روسی ریاستی عناصر سے جوڑتا ہو۔
یہ قتل پولینڈ اور روس کے مابین بڑھتی ہوئی کشیدگی کے دوران پیش آیا ہے۔ وارسا نے بارہا ماسکو اور اس کے حلیف بیلاروس پر پولینڈ کے خلاف ہائبرڈ آپریشنز کرنے، بشمول سائبر حملے، تخریب کاری کی کوششیں، غلط معلومات کی مہمات اور یورپی یونین کی مشرقی سرحد پر مہاجرین کے دباؤ کے اشاروں کا الزام لگایا ہے۔
پولیس ترجمان اینڈریج فیولییک کے بقول صورتحال قتل واردات کا اشارہ دیتی ہے۔ اگر کوئی سڑک پر کسی مخصوص شخص کے پاس جا کر فائر کرے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔انہوں نے پولش میڈیا کو بتایا، جبکہ یہ زور بھی دیا کہ تفتیش کار ابھی تک محرک کا سراغ نہیں لگا پائے۔
پولش براڈ کاسٹرز TVN اور wPolsce24 نے رپورٹ کیا کہ مقتول سکرپیتسکی تھے، جو ایک ایسے فنکار تھے جن کے طنزیہ کارٹون اکثر پوتن، چیچن رہنما رمضان قادیروف اور روسی حکومت سے منسلک دیگر شخصیات کا مذاق اڑاتے تھے۔ اطلاعات کے مطابق وہ 2021 میں سیاسی خوف کے باعث روس چھوڑ گئے تھے۔
اپنی موت سے چند روز قبل، سکرپیتسکی برلن میں روسی سفارت خانے کے باہر ہونے والے ایک احتجاج میں شامل تھے۔ سوشل میڈیا پر گردش کرتی تصاویر میں انہیں ایک ایسا فن پارہ اٹھائے دکھایا گیا تھا جس میں سوویت رہنما جوزف اسٹالن ایک بچہ پوتن کو دودھ پلا رہے ہیں۔
قریب کے سالوں میں پولش حکام نے ایسے افراد کو حراست میں لیا ہے جن پر روس یا بیلاروس کے لیے جاسوسی کے الزامات لگے اور عوامی طور پر متنبہ کیا ہے کہ روسی انٹیلی جنس سروسز وسطی یورپ میں سرگرم رہتی ہیں۔ چند یورپی ممالک نے بھی 2022 میں روس-یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد سے روس سے منسوب مشتبہ تخریبی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے۔
اگر یہ معاملہ جلاوطنی میں رہنے والے ایک اینٹی کریملِن فنکار کا ہدف بنا کر قتل ثابت ہو جاتا ہے تو اس کا تقابل لازمی طور پر سابقہ حملوں سے کیا جائے گا جن میں روسی ناقدین، صحافیوں اور منتقدین کو اندرونِ روس اور بیرونِ ملک نشانہ بنایا گیا۔
ان نمایاں مثالوں میں 2006 میں روسی صحافی اینا پولیتکوسکایا کا قتل بھی شامل ہے، جنہیں کریملِن اور چیچنیا کی جنگ پر برسوں کی تنقید کے بعد گولی مار دی گئی تھی۔
پولینڈ کے لیے یہ معاملہ خاص طور پر حساس ہے کیونکہ یہ واقعہ بیلاروس کی سرحد کے قریب پیش آیا، ایسے وقت میں جب علاقہ میں روسی اور بیلاروسی سرگرمیوں کے باعث سیکیورٹی سروسز پہلے ہی چوکس ہیں۔











