دنیا
2 منٹ پڑھنے
امریکہ: امریکی اتحادیوں کا فلسطین کو تسلیم کرنا محض 'نمائشی' ہے
برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی اہم امریکی اتحادیوں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا محض "نمائشی" ہے: امریکہ وزارتِ خارجہ
امریکہ: امریکی اتحادیوں کا فلسطین کو تسلیم کرنا محض 'نمائشی' ہے
نتانیاہو نے کہا کہ امریکہ کے دورے سے واپسی پر، جہاں ان کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کا پروگرام ہے، اسرائیل کا جواب دیا جائے گا۔ / AP Archive

امریکہ نے کہا ہے کہ برطانیہ، آسٹریلیا اور کینیڈا سمیت کئی اہم امریکی  اتحادیوں کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا محض "نمائشی" ہے۔

اتوار کے روز امریکہ وزارتِ خارجہ کے ایک ترجمان نے نام کو پوشیدہ رکھتے ہوئے جاری کردہ بیان میں فلسطین مزاحمتی تنظیم "حماس" کو درپیش صورتحال کا ذمہ دار ٹھہرایا  اور  کہا ہے کہ"ہماری توجہ، نمائشی اقدامات پر نہیں، سنجیدہ سفارت کاری پر مرکوز ہے ۔ ہماری ترجیحات واضح ہیں: یرغمالیوں کی رہائی، اسرائیل کی سلامتی اور پورے خطے کے لیے امن اور خوشحالی۔"

یہ بیان اسی دن جاری کیا گیا ہے کہ  جس دن برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا اور پرتگال نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کرنے کا تاریخی فیصلہ کیا ہے۔

برطانیہ کے  وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ"ہم، مشرق وسطیٰ میں بڑھتے ہوئے خوفناک حالات کے پیش نظر، امن اور دو ریاستی حل کے امکان کو زندہ رکھنے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔"

کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے فلسطین اور اسرائیل دونوں ریاستوں کے لیے ایک پرامن مستقبل کی تعمیر کے لیے شراکت داری کی پیشکش کی ہے۔

اس سال اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے دوران، فرانس، بیلجیم، لکسمبرگ، مالٹا، انڈورا، اور سان مارینو سمیت، مزید ممالک کے فلسطین کو تسلیم کرنے کی توقع ہے جس سے اسرائیل اور بالواسطہ طور پر امریکہ مزید تنہائی کا شکار ہو جائیں گے۔

اسرائیل کا غصہ

اسرائیلی قاتل  بنیامین نیتن یاہو نے کہا  ہےکہ میں ، صدر ڈونلڈ ٹرمپ سےملاقات اور دورہ امریکہ سے واپسی پر،   اسرائیل کے ردعمل کا اعلان کروں گا ۔

ایک بیان میں اس نے کہا ہے کہ" میرے پاس آپ کے لیے ایک اور پیغام ہے: یہ نہیں ہوگا۔ اردن کے مغرب میں فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی۔"

دائیں بازو کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مقبوضہ مغربی کنارے کو ضم کرے اور فلسطینی اتھارٹی کو "مکمل طور پر کچلنے" کے لئے اقدامات کرے۔

بن گویر نے ایکس سے جاری کردہ بیان میں کہا ہے  کہ وہ آئندہ کابینہ اجلاس میں مغربی کنارے کے انضمام کی تجویز پیش کریں گے۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے تقریباً تین چوتھائی رکن ممالک پہلے ہی فلسطین کو تسلیم کر چکے ہیں۔ ان ممالک میں سے  آئرلینڈ، اسپین، اور ناروے نے گذشتہ سال باضابطہ طور پرفلسطینی ریاست کو  تسلیم کیا تھا۔

دریافت کیجیے
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ
بھارت نے پنجاب کی سرحدوں کے قریب دو پاکستانی شہریوں کو  مار ڈالا
حکومتِ یمن: "طائز میں حوثیوں کے ساتھ گھمسان کی جنگ ہو رہی ہے"
ترکیہ وزیر برائے قومی دفاع یاشار گولیر کی آذربائیجان اور جارجیا کے ہم منصبوں سے ملاقات
متحدہ امریکہ نے شام کو دفاعی تجارتی پابندیوں کی فہرست سے  خارج کر دیا
جنوبی کوریا امریکہ میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرے گا
ریحانلی قتل عام کا ملزم گرفتار کرتےہوئے ترکیہ لایا گیا
ٹینیسی: زہریلے انجیکشنز کے باوجود  سزائے موت پانے والی خاتون بچ گئی: وکلا
اسرائیل کا حملہ، صحافی النجار ہلاک
امریکہ:200 سال بعد خاتون کو سزائے موت دینے کا فیصلہ
فلائی دبئی : پائلٹوں کی لڑائی کی وجہ سے پرواز سعودی عرب میں اتر گئی
میانمار : شمالی راکھائن میں کم از کم 50 افراد ہلاک
ٹوکیو میں بارشوں کا 34 واں مسلسل دن