ترک صدر رجب طیب ایردوان اور پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف نے دوطرفہ تعلقات، علاقائی اور عالمی معاملات، اور افغانستان کی تازہ صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا۔
" شہباز شریف نے ترک صدر رجب طیب ایردوآن کے ساتھ اپنی گفتگو کے بارے میں X پر لکھا کہ میں نے پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کی کوششوں کی حمایت میں ترکیہ کے تعمیری کردار کو تسلیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے افغانستان کی صورتحال پر بھی تبادلۂ خیال کیا ۔
شہباز شریف کے مطابق، دونوں رہنماؤں نے مشرقِ وسطیٰ میں تیزی سے بدلتی ہوئی صورتِ حال" پر بھی تبادلۂ خیال کیا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں کی ہم نے شدید مذمت کی ہے جو ہمارے برادر ملک ترکیہ اور خطے کے دیگر برادر ممالک پر کیے گئے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ میں نے پاکستان کی ترکیہ کے ساتھ نیز دیگر خلیجی بھائی ممالک کے ساتھ پائیدار یکجہتی کی تصدیق کی اور کشیدگی کم کرنے اور گفت و شنید کے راستے کی حمایت کی آمادگی کا اظہار کیا ہے ۔
"ہم نے زیادہ سے زیادہ احتیاط کی اپیل کی اور اختلافات کو گفت و شنید اور سفارت کاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔"
ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ خطے کے تنازعات کے حوالے سے اپنے امن پسندانہ اقدامات جاری رکھے گا، اور استحکام و امن کو یقینی بنانے کے لیے قدم اٹھاتا رہے گا," ۔
صدر نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کی سلامتی اور امن ترکیہ کے لیے اہم ہیں اور انقرہ پائیدار استحکام کے لیے مل کر کام جاری رکھے گا۔
ایردوآن نے زور دیا کہ ترکیہ بیت المقدس میں مسجدِ اقصیٰ، جو اسلام کا قبلہ اول ہے اس کو نشانہ بنانے والی اشتعال انگیزی کو قبول نہیں کر سکتا اور اسلامی دنیا خاموش نہیں رہ سکتی۔
یاد رہے کہ ترکیہ، سعودی عرب اور قطر کی درخواست پر پاکستان اور افغانستان نے بدھ کو عید کے موقع پر جنگ بندی کا اعلان کیا۔
افغانستان اور پاکستان کے تعلقات حالیہ ہفتوں میں بدتر ہو گئے ہیں کیونکہ سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا جس کے نتیجے میں جانی اور مالی نقصان ہوا۔










