جنوبی کوریا کے صدر لی جے مئینگ اور پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری تک بڑھانے پر اتفاق کیا، جس کے تحت دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو تعلقات کا مرکز بنایا۔
پیر کو صدارتی بلیو ہاؤس میں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات سے قبل بیانات میں لی نے کہا کہ دونوں ممالک 2022 میں طے شدہ 44.2 بلین ڈالر کے فریم ورک معاہدے کے تحت دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید توسیع دیں گے۔
لی نے کہا کہ "جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی اور فخر کا منبع ہونے والے K2 ٹینک، خود کار ہاوٹزر۔ کے نائن، ہلکے حملہ آور طیارے FA-5، اور چنموؤٰ کثیر راکٹ لانچرز ، اب پولینڈ کے وسیع علاقے اور اس کے عوام کا دفاع کر رہے ہیں۔"
جنوبی کوریا کے رہنما نے کہا کہ یہ شراکت اسلحے کی فروخت سے آگے بڑھی ہے جس میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیت بھی شامل ہے۔
ٹسک نے جنوبی کوریا کو خاص طور پر دفاعی صنعت میں " امریکہ کے بعد پولینڈ کا سب سے اہم اتحادی " قرار دیا اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے توسیع کی نگرانی کریں گے۔
دفاعی فریم ورک معاہدہ
انہوں نے کہا کہ تجدید شدہ شراکت کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ ذمہ داری اٹھائیں گے اور عالمی امن اور بین الاقوامی استحکام میں کردار ادا کریں گے۔
دونوں رہنماؤں نے توانائی کی سپلائی چینز، انفراسٹرکچر، سائنس و ٹیکنالوجی، اعلیٰ صنعتوں، خلائی شعبے اور عوامی روابط سمیت وسیع میدانوں میں تعاون کی توسیع پر بھی اتفاق کیا۔
روس-یوکرین جنگ کے بعد وارسا کی طرف سے اپنی فوج کی تیز رفتار جدید کاری کے نتیجے میں جنوبی کوریا حالیہ برسوں میں پولینڈ کا نمایاں اسلحہ فراہم کنندہ بن گیا ہے۔
2022 میں جنوبی کوریا اور پولینڈ نے ایک دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت جنوبی کورین کمپنیوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور پولینڈ کی سرزمین پر فوجی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار کی اجازت دی گئی۔
اس کے بعد سے ہانوا ایروسپیس اور ہنڈائی روٹم سمیت دفاعی کمپنیوں نے ٹینک اور میزائل لانچرز جیسے سازوسامان کی فراہمی کے لیے کثیر ارب ڈالر کے فالو اپ معاہدے کیے ہیں۔















