سیاست
2 منٹ پڑھنے
جنوبی کوریا، پولینڈ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے
جنوبی کوریا پولینڈ کا ایک اہم ہتھیار فراہم کنندہ بن گیا ہے، روس-یوکرین جنگ کے بعد سے وارسا اپنی فوج کو تیزی سے جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا، پولینڈ کے ساتھ دفاعی تعلقات کو مزید وسعت دے رہا ہے
جنوبی کوریا کے رہنما نے کہا کہ شراکت داری کو اسلحے کی فروخت سے بڑھا کر مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیت تک وسعت دی گئی ہے۔ / AP

جنوبی کوریا کے صدر لی جے مئینگ اور پولینڈ کے وزیرِ اعظم ڈونلڈ ٹسک نے تعلقات کو جامع اسٹریٹجک شراکت داری   تک بڑھانے  پر اتفاق کیا، جس کے تحت دونوں رہنماؤں نے دفاعی تعاون کو تعلقات کا مرکز بنایا۔

پیر کو صدارتی بلیو ہاؤس میں رہنماؤں کے درمیان مذاکرات سے قبل   بیانات میں لی نے کہا کہ دونوں ممالک 2022 میں طے شدہ 44.2 بلین ڈالر کے فریم ورک معاہدے کے تحت دفاعی صنعت میں تعاون کو مزید  توسیع  دیں گے۔

لی نے کہا کہ "جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی اور فخر کا منبع ہونے والے K2 ٹینک، خود کار ہاوٹزر۔ کے نائن، ہلکے حملہ آور طیارے FA-5، اور چنموؤٰ کثیر راکٹ لانچرز ، اب پولینڈ کے وسیع علاقے اور اس کے عوام کا دفاع کر رہے ہیں۔"

جنوبی کوریا کے رہنما نے کہا کہ یہ شراکت اسلحے کی فروخت سے آگے بڑھی ہے جس میں مشترکہ پیداوار، ٹیکنالوجی کی منتقلی اور تربیت بھی شامل ہے۔

ٹسک نے جنوبی کوریا کو خاص طور پر دفاعی صنعت میں " امریکہ کے بعد پولینڈ کا سب سے اہم اتحادی " قرار دیا اور کہا کہ وہ ذاتی طور پر دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے توسیع کی نگرانی کریں گے۔

دفاعی فریم ورک معاہدہ

انہوں نے کہا کہ تجدید شدہ شراکت کا مطلب ہے کہ دونوں ممالک مشترکہ ذمہ داری اٹھائیں گے اور عالمی امن اور بین الاقوامی استحکام میں کردار ادا کریں گے۔

دونوں رہنماؤں نے توانائی کی سپلائی چینز، انفراسٹرکچر، سائنس و ٹیکنالوجی، اعلیٰ صنعتوں، خلائی شعبے اور عوامی روابط سمیت وسیع میدانوں میں تعاون کی توسیع پر بھی اتفاق کیا۔

روس-یوکرین جنگ کے بعد وارسا کی طرف سے اپنی فوج کی تیز رفتار جدید کاری کے نتیجے میں جنوبی کوریا حالیہ برسوں میں پولینڈ کا نمایاں اسلحہ فراہم کنندہ بن گیا ہے۔

2022 میں جنوبی کوریا اور پولینڈ نے ایک دفاعی فریم ورک معاہدے پر دستخط کیے جس کے تحت جنوبی کورین کمپنیوں کو اسلحہ فراہم کرنے اور پولینڈ کی سرزمین پر فوجی سازوسامان کی مشترکہ پیداوار کی اجازت دی گئی۔

اس کے بعد سے ہانوا ایروسپیس اور ہنڈائی روٹم سمیت دفاعی کمپنیوں نے ٹینک اور میزائل لانچرز جیسے سازوسامان کی فراہمی کے لیے کثیر ارب ڈالر کے فالو اپ معاہدے کیے ہیں۔

 

دریافت کیجیے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک
غیر ملکی شہری اور سفارت کار کیف چھوڑ دیں:روس
ٹرمپ:ایران جوہری ہتھیار کے منصوبے سے تقریباً دستبردار ہو چکا ہے
یمنی فوج کے حوثیوں کے اہم مراکز پر حملے
اسرائیل کے غزہ میں ایک فلیٹ پر حملے میں پانچ افراد لقمہ اجل
پاکستان: 6 سے زیادہ ممالک مکہ مشترکہ دفاعی معاہدے میں شامل ہونے میں دلچسپی رکھتے ہیں
ہزاروں کی تعداد میں 'کاکروچ' کارکنان نے مودی کے الیکشن چیف کے استعفی کا مطالبہ کیا
سرحدی بارودی سرنگ سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے تو شمالی کوریا نے ایک بیلسٹک میزائل داغا
امریکی عہدیدار ایران کے خلاف اقدامات پر بات چیت کے لیے کیمپ ڈیوڈ میں یکجا ہوئے، ایکسیوس
ٹرمپ کا ترکیہ پر عائد CAATSA پابندیوں کو ہٹانے پر مثبت موقف کا مظاہرہ