ترکیہ کے وزیر خارجہ حاقان فیدان نے کہا ہے کہ یورپی سلامتی کا دائرہ صرف یورپی یونین تک محدود نہیں رکھا جا سکتا اور اس کے لیے ایک وسیع تر نقطۂ نظر درکار ہے جس میں ترکی براعظم کی سکیورٹی فن تعمیر میں ایک کردار ادا کرے۔
انقرہ میں وزارتِ خارجہ کے سینٹر فار اسٹریٹیجک ریسرچ (SAM) اور چیٹھم ہاؤس کے زیرِ اہتمام 'انقرہ سمٹ کے بعد یورپی سلامتی: یورپ بھر میں نیٹو اتحادیوں کے درمیان تعاون کو مستحکم کرنا' کے عنوان سے منعقدہ ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے، فیدان نے کہا کہ نیٹو کو محض موجودہ خطرات کے جواب میں ردِعمل دینے کی بجائے طویل المدتی اسٹریٹجک صلاحیتیں قائم کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔
فیدان نے کہا کہ امریکا اور یورپ کے درمیان تناؤ کے باوجود وہ توقع نہیں کرتے کہ یہ نیٹو سمٹ میں بے قابو بحران میں تبدیل ہو جائیں گے اور اختلافات کے انتظام میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی شرکت اہمیت رکھے گی۔
انہوں نے زور دیا کہ یورپی سلامتی کے لیے یورپی یونین سے آگے تک محیط ایک جامع نقطۂ نظر درکار ہے اور اس فریم ورک میں ترکی کا مرکزی کردار نمایاں ہے۔
فیدان نے دوبارہ دہرایا کہ ترکی یوکرین کی خود مختاری اور علاقائی سالمیت کی حمایت کرتا ہے، جبکہ یورپی سلامتی کے لیے روس کے ساتھ سفارتی رابطے اور گفت و شنید کو برقرار رکھنا بھی ضروری ہے۔
اہم شراکت دار
سربراہ ترک سفارت کار نے مزید کہا کہ نیٹو کی دفاعی صنعتی صلاحیت کو صرف یورپی یونین مرکزیت کے تناظر میں نہیں دیکھا جانا چاہیے اور ترکیہ اور برطانیہ جیسے ممالک، جو مضبوط دفاعی صنعت رکھتے ہیں، کو یورپی دفاعی تعاون میں فطری اور ضروری شراکت دار قرار دیا۔
فیدان نے کہا کہ یورپ کو امریکی مطالباتِ بوجھ کی تقسیم کو ذہنی دباؤ یا دھمکی کے طور پر نہیں لینا چاہیے اور یورپ کو اپنی دفاعی ذمہ داریوں کو زیادہ خود سنبھالنا ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ یورپ کی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا نہ صرف نیٹو کے مستقبل کے لیے ضروری ہے بلکہ یورپ کی اسٹریٹجک لچک کے لیے بھی اہم ہے، اور انہوں نے یہ بھی کہا کہ یورپ اور امریکا کے درمیان باہمی الزام تراشیاں انقرہ سمٹ کی غالب بات متوقع نہیں ہیں۔
ترک وزیر خارجہ نے کہا کہ سمٹ کی تیاریوں کا سب سے مشکل حصہ ٹرمپ کو شرکت پر راضی کرنا تھا اور ان کی شرکت یقینی بنانے کے بعد 'مشکل مرحلہ عبور کر لیا گیا' ہے۔














