اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکالنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔
اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور، اسرائیلی وزیر اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'یہودی طاقت' کے سربراہ اِتمار بن گویر نے نسلی صفائی کے ایک ایسے منصوبے کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت محصور غزہ سے 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے نام پر سات سال کے اندر علاقے سے نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔
بن گویر نے، روزنامے یدیوت آہرونوٹ کی طرف سے اس منصوبے کی تفصیلات شائع کیے جانے کے بعد، جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر "ڈِس انگیجمینٹ710" نامی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔
اخبار کے مطابق، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک خصوصی وزارت کے قیام اور میزبان ممالک میں فلسطینیوں کے لیے بذریعہ عطیات مالی معاونت شامل ہے۔
خطاب کے دوران بن گویر نے ایسے ممالک کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے جو فلسطینیوں کو ’’قبول کرنے کے لیے تیار‘‘ ہیں اور ’’بہت سے لوگ وہاں منتقل ہونا چاہتے ہیں‘‘۔
تاہم یدیوت آہرونوٹ نےکہا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی ملک نہیں ہے جس نے غزہ سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہو۔
رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا ہدف پہلے سال 2 لاکھ 50 ہزار، تین سال کے اندر 11 لاکھ 10 ہزار اور سات سال کے اندر تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کرنا ہے۔
خبر میں بتایا گیا ہے کہ بن گویر نے ’’کئی ماہ تک کام کرنے کے بعد‘‘ اس اقدام کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی حصہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔
یدیوت آہرونوٹ کی خبر کے مطابق یہودی طاقت پارٹی بھی اس اقدام کی منظوری کو آئندہ حکومت میں شمولیت کی خاطر متوقع کسی بھی مذاکرات میں بنیادی شرط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اس عمل میں غزہ سے نکلنے والے ہر فرد یا خاندان کو ایک ملک ، قانونی حیثیت، دستاویزات، ویزے، سفری اخراجات اور ابتدائی رہائش کے انتظام جیسی سہولیات فراہم کرنا بھی شامل ہوگا۔





















