غّزہ جنگ
2 منٹ پڑھنے
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
اسرائیلی منصوبے میں پہلے سال 2 لاکھ 50 ہزار، تین سال کے اندر 11 لاکھ 10 ہزار اور سات سال کے اندر تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اسرائیل: 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکال دیا جائے
بین گویر کا فلسطینیوں کو بے دخل کرنے کے لیے "وزارتِ ہجرت" قائم کرنے کا مطالبہ۔ / Reuters Archive

اسرائیل کے وزیر برائے قومی سلامتی اتمار بن گویر نے 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو غزّہ سے نکالنے کا منصوبہ پیش کیا ہے۔

اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق، اپنے متنازع بیانات کی وجہ سے مشہور، اسرائیلی وزیر اور انتہائی دائیں بازو کی جماعت 'یہودی طاقت' کے سربراہ اِتمار بن گویر نے نسلی صفائی کے ایک ایسے منصوبے کی تجویز پیش کی ہے جس کے تحت محصور غزہ سے 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو ’’رضاکارانہ ہجرت‘‘ کے نام پر سات سال کے اندر علاقے سے نکالنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

بن گویر نے، روزنامے یدیوت آہرونوٹ کی طرف سے اس منصوبے کی تفصیلات شائع کیے جانے کے بعد، جمعرات کو ایک پریس کانفرنس میں انتخابی مہم کے ایک حصے کے طور پر "ڈِس انگیجمینٹ710" نامی منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اخبار کے مطابق، اس منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کے لیے ایک خصوصی وزارت کے قیام اور میزبان ممالک میں فلسطینیوں کے لیے بذریعہ عطیات مالی معاونت شامل ہے۔

خطاب  کے دوران بن گویر نے ایسے ممالک کی موجودگی کا دعویٰ کیا ہے  جو فلسطینیوں کو ’’قبول کرنے کے لیے تیار‘‘ ہیں اور ’’بہت سے لوگ وہاں منتقل ہونا چاہتے ہیں‘‘۔

تاہم یدیوت آہرونوٹ نےکہا ہے کہ فی الحال ایسا کوئی ملک  نہیں ہے جس نے غزہ سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو قبول کرنے پر رضامندی ظاہر کی ہو۔

رپورٹ کے مطابق اس منصوبے کا ہدف پہلے سال 2 لاکھ 50 ہزار، تین سال کے اندر 11 لاکھ 10 ہزار اور سات سال کے اندر تقریباً 18 لاکھ 60 ہزار فلسطینیوں کو ملک بدر کرنا ہے۔

خبر میں بتایا گیا ہے کہ بن گویر نے ’’کئی ماہ تک کام کرنے کے بعد‘‘ اس اقدام کو اپنی انتخابی مہم کا مرکزی حصہ بنانے کا منصوبہ بنایا ہے۔

یدیوت آہرونوٹ کی خبر کے مطابق یہودی طاقت پارٹی بھی اس اقدام کی منظوری کو آئندہ حکومت میں شمولیت کی خاطر متوقع  کسی بھی مذاکرات میں بنیادی شرط بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس عمل میں غزہ سے نکلنے والے ہر فرد یا خاندان کو ایک  ملک ، قانونی حیثیت، دستاویزات، ویزے، سفری اخراجات اور ابتدائی رہائش کے انتظام  جیسی سہولیات فراہم کرنا بھی شامل ہوگا۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک