دنیا
3 منٹ پڑھنے
تباہ کن سیلاب کے بعد کئی افراد لاپتہ، بھارتی فوج کا بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن
مٹی اور ملبے کا ایک دیوار نما سیلابی ریلا ایک تنگ پہاڑی وادی سے گزرتا ہوا اتراکھنڈ ریاست کے دھارالی قصبے سے ٹکرا یا ، اس  قدرتی آفت میں کم از کم چار افراد ہلاک اور تقریباً 100 افراد لاپتہ ہو گئے، جن میں 11 فوجی بھی شامل ہیں۔
تباہ کن سیلاب کے بعد کئی افراد لاپتہ، بھارتی فوج کا بڑے پیمانے پر سرچ آپریشن
بھارتی ریاست اتّرکاشی کے ضلع دھارالی میں آنے والے اچانک سیلاب کے بعد انڈو ٹیبیٹین بارڈر پولیس نے نقصان کا جائزہ لیا اور بچاؤ کا کام کیا جس میں کئی گھر اور عمارتیں بہہ گئی تھیں۔ / AP
6 اگست 2025

بھارتی فوج نے بدھ کے روز کھوجی کتوں، ڈرونز اور بھاری زمین کھودنے والے آلات کا استعمال کرتے ہمالیائی علاقے میں آنے والے تباہ کن  سیلاب کے بعد لاپتہ ہو نے والوں کے لیے  امدادی کاروائیاں شروع کی ہیں ۔

مٹی اور ملبے کا ایک دیوار نما سیلابی ریلا ایک تنگ پہاڑی وادی سے گزرتا ہوا اتراکھنڈ ریاست کے دھارالی قصبے سے ٹکرا یا ، اس  قدرتی آفت میں کم از کم چار افراد ہلاک اور تقریباً 100 افراد لاپتہ ہو گئے، جن میں 11 فوجی بھی شامل ہیں۔

بھارتی فوج نے اعلان کیا ہے  کہ "اضافی فوجی دستے، فوجی کھوجی کتے، ڈرونز، لاجسٹک ڈرونز، زمین کھودنے والے آلات وغیرہ کو روانہ کیا گیا ہے تاکہ کوششوں کو تیز کیا جا سکے۔"

فوج نے مزید کہا کہ فوجی ہیلی کاپٹر "ضروری سامان، ادویات اور پھنسے ہوئے افراد کے انخلا کے لیے" کام کر رہے ہیں۔

اتراکھنڈ کے وزیر اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے کہا کہ یہ سیلاب شدید "گرج اور بارش" کی وجہ سے آیا، امدادی ٹیموں کو "جنگی بنیادوں پر" تعینات کیا گیا ہے۔

بھارتی میڈیا پر نشر ہونے والی ویڈیوز میں منگل کی دوپہر سیاحتی علاقے میں مٹی  والے پانی کا ایک خوفناک ریلا کئی منزلہ عمارتوں کو بہا لے جاتا دکھایا گیا۔

کئی افراد کو بھاگتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا، لیکن وہ ملبے کی تاریک لہروں میں بہہ گئے جو پوری عمارتوں کو اکھاڑ پھینک رہی تھیں۔

وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ نے منگل کی رات پریس ٹرسٹ آف انڈیا (پی ٹی آئی) نیوز ایجنسی کو بتایا کہ انہیں "چار اموات اور تقریباً 100 افراد کے لاپتہ ہونے" کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

قدرتی آفت

مون سون کی طوفانی بارشیں مسلسل جاری ہیں۔

فوج نے کہا، "رہائشیوں کو  بلند ہونےو الی پانی کی سطح کے پیش نظر اونچے مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔"

بدھ کے روز سرکاری موسمیاتی ماہرین نے کہا کہ اتراکھنڈ کے  تمام بڑی  ندیاں اور نالے خطرے کے نشان سے اوپر بہہ رہی ہیں۔

قصبے کا ایک بڑا حصہ مٹی سے ڈھک گیا تھا، اور امدادی حکام نے اندازہ لگایا کہ کچھ جگہوں پر مٹی کی گہرائی 50 فٹ تک تھی، جس نے کچھ عمارتوں کو مکمل طور پر نگل لیا۔

مون سون کے موسم میں جون سے ستمبر کے دوران مہلک سیلاب اور مٹی کے تودے گرنا عام ہیں، لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اور شہری  آباد کاریاں ان کی شدت اور تعداد میں اضافہ کر رہی ہیں۔

اقوام متحدہ کے عالمی موسمیاتی ادارے نے گزشتہ سال کہا تھا کہ شدید سیلاب اور خشک سالی "پریشانی کا اشارہ" ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث زمین کا پانی کا نظام مزید غیر متوقع ہو رہا ہے۔

ماہر ہائیڈروولوجسٹ منیش شریستھا نے کہا کہ سیلاب زدہ علاقے میں 24 گھنٹوں کے اندر 270 ملی میٹر بارش "بلند سطح" کے زمرے میں آتی ہے۔

نیپال میں قائم بین الاقوامی مرکز برائے مربوط پہاڑی ترقی سے تعلق رکھنے والے شریستھا نے کہا کہ پہاڑوں میں اس طرح کی بارش کا اثرسبت ہموار نشیبی علاقوں کے "زیادہ مرتکز" ہوتا ہے ۔

انہوں نے کہا، "ایسی شدید بارش کے واقعات عام ہوتے جا رہے ہیں، اور یہ موسمیاتی تبدیلی سے جڑے ہو سکتے ہیں۔"

 

دریافت کیجیے
ایرانی رہنما: ایران دشمن کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے گا، ہم ہمسایہ ممالک سے معذرت خواہ ہیں
یوکرین کی ایک رہائشی عمارت پر روسی حملے میں متعدد افراد ہلاک
ایردوان اور میلونی نے مشرق وسطیٰ کے بڑھتے ہوئے بحران کے درمیان علاقائی کشیدگی پر تبادلہ خیال کیا
اقوام متحدہ کا مشرق وسطی میں پھیلتی ہوئی جنگ کے باعث 'سنگین انسانی ہنگامی صورتحال' کا اعلان
امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ کے پہلے 36 گھنٹوں میں 3,000 سے زیادہ فضائی حملے کیے: رپورٹ
چین: مشرقِ وسطیٰ میں احتیاط سے کام لیا جائے
یورپی یونین: ترک مصنوعات پر 'میڈ ان ای یو' لیبل چسپاں ہو گا
امریکہ: ہم بھارت کو چین کی طرح اپنا رقیب نہیں بننے دیں گے
امریکی تحقیقات میں ایرانی اسکول پر حملے میں امریکی کردار کی تائید ہوتی نظر آتی ہے — رپورٹ
نیپال میں 2025 کی بغاوت کے بعد پہلے پارلیمانی انتخابات
سعودی عرب نے 3 بیلسٹک میزائلوں کو ناکارہ کر دیا
ایران میں برّی کاروائی کا سوچنا فی الحال وقت کا زیاں ہو گا: ٹرمپ
اسرائیل: ہم نے، بیروت کے جنوبی مضافات پر، نئے فضائی حملے کئے ہیں
اسپین: ٹرمپ سے اپیلیں کرتے رہنا بالکل بے فائدہ ہے
ترک قومی خفیہ سروس کا شام میں کلیدی داعش آپریشن