کینیڈا نے امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیئے ہیں جس کے بعد تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
اوٹاوا، کینیڈا نے آج بروز منگل علی الصبح تقریباً 20 ارب ڈالر (27.6 ارب کینیڈین ڈالر) مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیئے ہیں جس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
کینیڈا کے یہ اقدامات ترکیہ کے مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 1 منٹ پر اور کینیڈا کےمقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 1 منٹ پر نافذ ہوگئے ہیں۔
اوٹاوا کا کہنا ہے کہ مذکورہ محصولات، امریکہ کی جانب سے تجارتی قانون کی شق نمبر 338 کے تحت عائد کیے گئے محصولات کا "ڈالر بمقابلہ ڈالر" کی بنیاد پر، ایک مکمل جواب ہیں۔
کینیڈا نے اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ اور کاغذ، الیکٹرانکس اور دیگر اہم شعبوں سے متعلقہ امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک کے محصولات عائد کیے ہیں۔
واضح رہے کہ یہ پیش رفت اگست کے آخر میں امریکہ ۔ کینیڈا تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی اہم مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کر دیئے تھے۔
امریکہ کے عائد کردہ محصولات میں اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور آٹو موٹیو پرزہ جات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ واشنگٹن نے یہ اقدامات امریکی تجارتی قانون کی ، صدر کو جوابی تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دینے والی، شق نمبر 338 کے تحت کئے تھے۔
کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے جوابی محصولات صرف امریکہ میں تیار ہونے والی مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ علاوہ ازیں، جوابی محصولات کے نفاذ کے دن سے پہلے کے ترسیلی مراحل کا مال نئے محصولات سے مستثنیٰ ہو گا۔
محصولات کے مسلسل تبادلے اور ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازعہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔
صدر ٹرمپ ،امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی خسارے کواپنی محصولات پالیسی کی اہم وجوہات میں شمار کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر متعدد مواقع پر اوٹاوا پر تنقید کرتے ہوئے کینیڈا کو امریکہ کے ساتھ "دھوکا دہی" کا قصور وار ٹھہرا چُکے ہیں۔
















