دنیا
2 منٹ پڑھنے
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
کینیڈا نے 20 ارب ڈالر مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیئے، دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی
کینیڈا نے امریکی سامان پر 20 بلین ڈالر کے ٹیرف لگا دیئے
ڈرون سے لیے گئے ایک منظر میں یکم ستمبر 2026 کو اونٹاریو کے شہر ونڈسر اور مشی گن کے شہر ڈیٹرائٹ کو جوڑنے والے گورڈی ہو انٹرنیشنل پل سے گاڑیاں گزرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں۔ / Reuters Archive

کینیڈا  نے امریکی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیئے ہیں جس کے بعد تجارتی کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔

اوٹاوا، کینیڈا نے آج بروز منگل علی الصبح تقریباً 20 ارب ڈالر (27.6 ارب کینیڈین ڈالر) مالیت کی امریکی درآمدی مصنوعات پر جوابی محصولات عائد کر دیئے ہیں جس کے بعد دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان جاری تجارتی جنگ مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔

کینیڈا کے یہ اقدامات ترکیہ کے مقامی  وقت کے مطابق صبح 7 بج کر 1 منٹ پر اور کینیڈا کےمقامی وقت کے مطابق رات 12 بج کر 1 منٹ پر نافذ ہوگئے ہیں۔

 اوٹاوا کا کہنا ہے کہ مذکورہ محصولات، امریکہ  کی جانب سے تجارتی قانون کی شق نمبر 338 کے تحت عائد کیے گئے محصولات کا "ڈالر بمقابلہ ڈالر" کی بنیاد پر، ایک مکمل جواب ہیں۔

کینیڈا نے اسٹیل، ڈیری مصنوعات، گھریلو برقی آلات، زرعی مشینری، پلپ اور کاغذ، الیکٹرانکس اور دیگر اہم شعبوں سے متعلقہ امریکی مصنوعات پر 15، 25 اور 50 فیصد تک کے محصولات عائد کیے ہیں۔

واضح رہے کہ یہ پیش رفت اگست کے آخر میں  امریکہ ۔ کینیڈا تجارتی مذاکرات کی ناکامی کے بعد سامنے آئی ہے۔ مذاکرات کی ناکامی کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے کینیڈا کی اہم مصنوعات پر 50 فیصد تک محصولات عائد کر دیئے تھے۔

امریکہ کے عائد کردہ محصولات میں اسٹیل، ایلومینیم، لکڑی اور آٹو موٹیو پرزہ جات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ واشنگٹن نے یہ اقدامات امریکی تجارتی قانون کی ،  صدر کو جوابی تجارتی پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دینے والی، شق نمبر 338 کے تحت کئے تھے۔

کینیڈین حکومت نے واضح کیا ہے کہ نئے جوابی محصولات صرف امریکہ میں تیار ہونے والی مصنوعات پر لاگو ہوں گے۔ علاوہ ازیں، جوابی محصولات  کے نفاذ کے دن سے پہلے کے ترسیلی مراحل کا مال نئے محصولات سے مستثنیٰ ہو گا۔

محصولات کے مسلسل تبادلے اور ایک دوسرے کے خلاف جوابی اقدامات کے باعث ٹرمپ انتظامیہ کے دور میں امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی تنازعہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ شدت اختیار کر گیا ہے۔

صدر ٹرمپ ،امریکہ اور کینیڈا کے درمیان تجارتی خسارے کواپنی  محصولات پالیسی کی اہم وجوہات میں شمار کرتے رہے ہیں۔ امریکی صدر متعدد مواقع پر اوٹاوا پر تنقید کرتے ہوئے کینیڈا  کو امریکہ کے ساتھ "دھوکا دہی" کا قصور وار ٹھہرا چُکے ہیں۔

دریافت کیجیے
امریکہ: وفاقی جج نے ٹرمپ انتظامیہ کے عائد کردہ جرمانوں کا نفاذ روک دیا
اسرائیل خانہ جنگی کا شکار ہو سکتا ہے: امریکی خفیہ رپورٹ
ایران: "امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کا کوئی فائدہ نہیں"
غزہ میں جنگ بندی مستقل طور سے بحال کروائی جائے: گوتیرس
اتحادی افواج کا یمن میں  آپریشن، حوثیوں کے ٹھکانوں پر حملے
"مکہ معاہدہ" سیکریٹری جنرل نعمان محمود ہونگے
ماسکو پر 650 ڈرونز سے حملہ،  روس کے خلاف گزشتہ دو برسوں میں بڑا ترین دوسرا حملہ تھا
ترکیہ کا ردعمل: اسرائیل، شام میں کاروائیاں کرنا بند کرے
فرانس:طلباء کی احتجاجی تحریک جاری، 500 ہائی اسکول بند ہو گئے
رونالڈو اگر چاہیں تو پرتگال ٹیم میں واپس آ سکتے ہیں:ہیڈ کوچ
روس میں لیبارٹری ملازمہ کی مشکوک موت سے وبا کا خدشہ پیدا
دہشتگردی کا خطرہ،امریکہ نے B-1 طیارے برطانیہ سے ہٹا دیئے
قاتل اسرائیل، 2023 سے اب تک، مقبوضہ مغربی کنارے پر تقریباً 63 ہزار حملے کر چکا ہے
ترکیہ: 21 ممالک نے انطالیہ اعلامیہ منظور کر دیا
حماس کے رہنما کے قتل کی ناکام کوشش  عیسائی ماں اور بیٹی ہلاک