سیاست
4 منٹ پڑھنے
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
مسئلہ کیا ہے؟ مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل صرف ہمارا نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔"
اسرائیل حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بچانے کے لیے نئے دشمن کی متلاشی ہے، ترک وزیر خارجہ
Turkish Foreign Minister Hakan Fidan

وزیر خارجہ فیدان نے کہا کہ دنیا بھر میں جامعات کے کیمپسوں سے لے کر اخبارات تک ہر جگہ اسرائیل کے خلاف ردِعمل اور مخالفت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ "یہ لوگ کھلے عام قتلِ عام کر رہے ہیں۔ کھلے عام ہر جگہ عدم استحکام پیدا کرنے والا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پہلے یہ اپنی ایسی سرگرمیوں کو چند سادہ میڈیا مہمات کے ذریعے چھپا لیتے تھے، مگر اب وہ اسے چھپا نہیں سکتے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ تل ابیب کی حکومت اپنی بگڑتی ساکھ کو بدلنے کے لیے نئے دشمن کی تلاش میں ہے۔

"اسرائیل یا کوئی بھی دوسرا فریق، جب تک ہمارے قومی یا علاقائی مفادات سے ٹکرائے گا، ہم نہ کسی سے ڈریں گے، نہ جھکیں گے اور نہ ہی پیچھے ہٹیں گے۔ ہمیں اس میں کوئی مسئلہ نہیں۔ مقابلہ کرنا ہمارے لیے کوئی نئی بات نہیں۔ لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ اسرائیل محض ہمارا  نہیں بلکہ پوری دنیا کا مسئلہ ہے۔"

حاقان فیدان نے اس بات پر زور دیا کہ اسرائیل صرف ترکیہ ہی نہیں بلکہ پورے عالمی برادری کا مشترکہ مسئلہ بن چکا ہے۔

انہوں  نے مزید بتایا  کہ"یہ لوگ اب انسانیت کے لیے ایسا بوجھ بن چکے ہیں جسے مزیدبرداشت کرنا ممکن نہیں۔ اپنی پالیسیوں اور سوچ کی وجہ سے انسانیت انہیں برداشت نہیں کر سکتی۔ انسانی ضمیر انہیں قبول نہیں کرتا، نہ سیاسی نظام اور نہ ہی معاشی نظام۔ آپ کسی بھی زاویے سے دیکھیں، ایسا کوئی معیار باقی نہیں بچا جو ان کی حمایت کر سکے۔ اسی لیے جب عالمی برادری مجھ سے سوال کرتی ہے تو میں ہمیشہ کہتا ہوں کہ اس مسئلے کو صرف میرا مسئلہ کیوں بنایا جا رہا ہے؟ ممکن ہے کہ میں واحد ملک ہوں جو بلند آواز میں اس کی مخالفت کر رہا ہے، لیکن یہ مسئلہ آپ سب کا بھی ہے۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ میں اکیلا ہی آپ سب کا مسئلہ حل کروں، تو پھر سب کو آگے آنا ہوگا، اپنی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی، سفارتی مؤقف اختیار کرنا ہوگا اور ان لوگوں پر ضروری پابندیاں عائد کرنی ہوں گی۔"

اس تناظر میں فیدان نے یاد دلایا کہ ترکیہ نے اسرائیل کے ساتھ تقریباً 10 ارب ڈالر کی تجارتی سرگرمیوں کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مقصد اسرائیلی معیشت کو براہِ راست تباہ کرنا نہیں بلکہ ایک مضبوط سیاسی پیغام دینا تھا۔

وزیر خارجہ نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ یورپی ممالک نے تاریخ میں پہلی مرتبہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے پر پابندیاں یا محدودیاں عائد کی ہیں۔

 انہوں نے کہا کہ "یہ پہلی بار ہو رہا ہے۔ یہودی نسل کشی کے باعث اسرائیل یورپ کے ضمیر پر ایک بوجھ کی طرح تھا، اور اسرائیل نے اس احساس کو پوری طرح اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔ اسی لیے اسرائیل کے لیے بے حد برداشت اور رعایت موجود تھی۔ اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ وہ برداشت ختم ہو رہی ہے۔ اسرائیل کے انتہا پسند سیاست دانوں، خاص طور پر مغربی کنارے میں ان کی پالیسیوں کے باعث، سفری پابندیوں اور گرفتاری کے احکامات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بین الاقوامی فوجداری عدالت نے بھی نیتن یاہو اور ان کے ساتھیوں کے خلاف گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے ہیں۔ یعنی عالمی برادری اپنی استطاعت کے مطابق اقدامات کر رہی ہے۔"

حاقان فیدان نے مزید کہا کہ یورپی یونین کے اندر بھی اسرائیل کے خلاف زیادہ سخت مؤقف اختیار کرنے پر سنجیدہ بحث جاری ہے۔

انہوں نے کہا"مجھے نہیں لگتا کہ اب ان کے لیے معاملات پہلے کی طرح آسان رہیں گے۔ اب وہ پہلے کی طرح آگے نہیں بڑھ سکتے۔ وہ اپنی پالیسیوں کی آخری حد تک پہنچ چکے ہیں۔ اسرائیل نے خود اپنے ہی پاؤں پر کلہاڑی ماری ہے۔ ہم سب یہی کہہ رہے ہیں۔ اور نیتن یاہو نے اپنے ہی معاشرے کے ساتھ سب سے بڑی ناانصافی کی ہے۔"